Hadith about Sending of Mujadid-Reviver at the begining of Every Century in Muslim Ummah

فَصْلٌ فِي بَعْثِ الْأَئِمَّةِ الْمُجَدِّدِيْنَ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ

 

اس اُمت میں اَئمہ مجددین کے بھیجے جانے کا بیان

Revival of  true spirit of Islam by Minhaj-ul-Quran under Leadership of Shaykh-ul-Islam Dr.Tahir-ul-Qadri

841 / 41. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه فِيْمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ اﷲَ عزوجل يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَي رَأْسِ کُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُّجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث رقم 41 : أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : الملاحم، باب : مايذکر في قرن المائة، 4 / 109، الرقم : 4291، والحاکم في المستدرک، 4 / 567، 568، الرقم : 8592، 8593، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 223، الرقم : 6527، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 148، الرقم : 532، والمقرئ في السنن الوردة في الفتن، 3 / 742، الرقم : 364، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 51 / 388، 341، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 2 / 61.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس (علم) میں سے جو انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھا روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی کے آخر میں کسی ایسے شخص (یا اشخاص) کو پیدا فرمائے گا جو اس (امت) کے لئے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔ ‘‘

842 / 42. عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ أَدْنَي الرِّيَاءِ شِرْکٌ وَأَحَبَّ الْعَبِيْدِ إِلَي اﷲِ تَبَارَکَ وَتَعَالَي الْأَتْقِيَاءُ الْأَخْفِيَاءُ الَّذِيْنَ إِذَا غَابُوْا لَمْ يُفْتَقَدُوْا وَإِذَا شَهِدُوْا لَمْ يُعْرَفُوْا أُوْلَئِکَ أَئِمَّةُ الْهُدَي وَمَصَابِيْحُ الْعِلْمِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ.

وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَاحَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.

الحديث الرقم 42 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 303، الرقم : 5182، والطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 163، الرقم : 4950، وفي المعجم الکبير، 20 / 36، الرقم : 53، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 252، الرقم : 1298، والبيهقي في کتاب الزهد، 2 / 112.

’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : معمولی سا دکھاوا بھی شرک ہے اور بندوں میں سے محبوب ترین بندے اﷲ تعالیٰ کے نزدیک متقی اور خشیت الٰہی رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو موجود نہ ہوں تو تلاش نہ کیے جائیں اور موجود ہوں تو پہچانے نہ جائیں، وہی لوگ ہدایت کے اِمام اور علم کے چراغ ہیں۔ ‘‘

843 / 43. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ مِائَةِ شَهِيْدٍ.

رَوَاهُ أَبُوْنُعَيْمٍ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ.

الحديث الرقم 43 : أخرجه أبونعيم في حلية الأولياء، 8 / 200، والبيهقي في کتاب الزهد الکبير، 2 : 118، الرقم : 207، والديلمي في مسند الفردوس، 4 / 198، الرقم : 6608، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 : 41 / الرقم : 65، والمزي في تهذيب الکمال، 24 / 364، والذهبي في ميزان الاعتدال، 2 / 270.

’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے اس وقت میری سنت کو مضبوطی سے تھاما جب میری امت فساد میں مبتلا ہو چکی ہو گی تو اس کے لئے سو شہیدوں کے برابر ثواب ہے۔ ‘‘

844 / 44. عَنِ الْحَسَنِ بِنْ عَلِيٍّ رضي اﷲُ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِي بِهِ الإِسْلَامَ فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِيْنَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ.

رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.

الحديث الرقم 44 : أخرجه الدارمي في السنن، باب : في فضل العلم والعالم، 1 / 112، الرقم : 354، والطبراني في المعجم الأوسط، 9 / 174، الرقم : 9454، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 51 / 61، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 123، وابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله، 1 / 46، والزبيدي في اتحاف سادة المتقين، 1 / 100، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 53، الرقم : 110.

’’حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دورانِ حصولِ علم اگر کسی شخص کو موت آ جائے اور وہ اس لئے علم حاصل کر رہا ہو کہ اس کے ذریعہ سے اسلام کو زندہ کرے گا تو اس کے اور انبیاءِ کرام کے درمیان جنت میں صرف ایک درجے کا فرق ہو گا۔ ‘‘

845 / 45. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ : لَا نَبِيَّ بَعْدِي. قَالُوْا : فَمَا يَکُوْنُ يَا رَسُوْلَ اﷲِ، قَالَ : يَکُوْنُ خُلَفَاءٌ بَعْضُهُمْ عَلَي أَثْرِ بَعْضٍ فَمَنِ اسْتَقَامَ مِنْهُمْ فَفُوْا لَهُمْ بَيْعَتَهُمْ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَقِمْ فَأَدُّوْا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا ﷲَ الَّذِي لَکُمْ. رَوَاهُ ابْنُ رَاهَوَيْهِ.

الحديث الرقم 45 : أخرجه ابن راهويه في المسند، 1 / 257، الرقم : 223.

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (جان لو!) میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : تو یا رسول اللہ کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (میرے) خلفاء ہوں گے اور پھر ان کے خلفاء ہوں گے۔ سو جسے تم سیدھے راستہ پر پاؤ اس کے ساتھ بیعت (عہد وفا) نبھاؤ، اور جو سیدھی راہ پر نہ رہیں انہیں ان کا حق دے دو اور اپنا حق اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ ‘‘

846 / 46. عَنْ کَثِيْرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ رضي الله عنهم قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ الدِّيْنَ (أَوْ قَالَ : إِنَّ الإِسْلَامَ) بَدَأَ غَرِيْبًا وَسَيَعُوْدُ غَرِيْبًا کَمَا بَدَأَ فَطُوْبَي لِلْغُرَبَاءِ قِيْلَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! مَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ : الَّذِيْنَ يُحْيُوْنَ سُنَّتِي وَيُعَلِّمُوْنَهَا عِبَادَ اﷲِ. رَوَاهُ الْقُضَاعِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.

الحديث الرقم 46 : أخرجه القضاعي في مسند الشهاب، 2 / 138، الرقم : 1052. 1053، والبيهقي في کتاب الزهد الکبير، 2 / 117، الرقم : 205، والسيوطي في مفتاح الجنة، 1 / 67.

’’حضرت کثیر بن عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک دین (یا فرمایا : اسلام) کی ابتداء غریبوں سے ہوئی اور غریبوں میں ہی لوٹے گا جس طرح کہ اس کا آغاز ہوا تھا، سو غریبوں کو مبارک ہو۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! غرباء کون ہیں؟ فرمایا : وہ لوگ جو میری سنتوں کو زندہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ان کی تعلیم دیتے ہیں۔ ‘‘

847 / 47. عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَبِ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ يُحْيِي بِهِ الإِسْلَامَ لَمْ يَکُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ إِلَّا دَرَجَةٌ.

رَوَاهُ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ.

الحديث الرقم 47 : أخرجه ابن عبدالبر في جامع بيان العلم وفضله، 1 / 46.

’’حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے علم حاصل کیا تاکہ اس سے اسلام کو زندہ کر سکے تو اس کے اور انبیاء کرام کے درمیان سوائے ایک درجہ کے کوئی فرق نہیں ہو گا۔ ‘‘

848 / 48. عَنِ الْحَسَنِ ابْنِ عَلِيٍّ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : رَحْمَةُ اﷲِ عَلَي خُلَفَائِي ثلَاَثَ مَرَّاتٍ، قَالُوْا : وَمَنْ خُلَفَاؤُکَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ : الَّذِيْنَ يُحْيُوْنَ سُنَّتِي وَيُعَلِّمُوْنَهَا النَّاسَ.

رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ وَالْهِنْدِيُّ.

الحديث الرقم 48 : أخرجه ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 51 / 61، وابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله، 1 / 46، والهندي في کنز العمال، 10 / 229، الرقم : 29209.

’’حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ فرمایا : میرے خلفاء پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ کے خلفاء کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ (لوگ) جو میری سنتوں کو زندہ کرتے ہیں اور (دوسرے) لوگوں کو بھی ان کی تعلیم دیتے ہیں (میرے خلفاء ہیں)۔ ‘‘

849 / 49. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْفَرْيَابِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رضي الله عنه : إِنَّ اﷲَ يُقَيِضُ لِلنَّاسِ فِيکُلِّ رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُعَلِّمُهُمُ السُّنَنَ وَيَنْفِي عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم الْکِذْبَ. رَوَاهُ الْمِزِّيُّ وَالْخَطِيْبُ وَالْعَسْقَلَانِيُّ.

الحديث الرقم 49 : أخرجه المزي في تهذيب الکمال، 24 / 365، والعسقلاني في تهذيب التهذيب، 9 / 25، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 2 / 62، والعظيم آبادي في عون المعبود، 11 / 261.

’’حضرت ابو سعید فریابی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ہر صدی کے آخر پر لوگوں کے لئے ایک ایسی شخصیت کو بھیجتا ہے جو لوگوں کو سنت کی تعلیم دیتی ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب جھوٹ کی نفی کرتی ہے۔ ‘‘

Taken from “Al-Minhaj as-Sawiyy min al-Hadith an-Nabawiyy” By Shaykh-ul-Islam Dr.Tahir-ul-Qadri

Click here to read






Comments are Closed