Reply:Tahir ul Qadri made a dead person recite Kalima according to Hadith of Sahih Muslim & Ibn Majah

میت کو دفنانے کے بعد کلمہ کی تلقین کرنا کیسا ہے؟

 

موضوع: روحانیات |  ایمان بعث بعد الموت |  نماز جنازہ

سوال پوچھنے والے کا نام: عطا الرحمن       مقام: سعودی عرب

سوال نمبر 1041:
برائے مہربانی ہماری رہنمائی کیجئے کہ انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب اپنے ایک کارکن کو دفنانے کے بعد ان کی قبر پر کھڑے ہو کر انہیں کلمہ اور قبر میں ہونے والے سوالات کی تلقین کر رہے ہیں۔ کیا ایسا شریعت کی روح سے جائز ہے؟

جواب:

مردے کو کلمہ پڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان حالت مرگ میں ہو یا تدفین کے بعد اس کو لا اله الا الله محمد رسول الله کی تلقین یا یادہانی کرائی جائے۔

تلقین کے بارے میں احادیث مبارکہ میں واضح حکم ملتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے، صحیح مسلم شریف میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم لقنوا موتاکم لا اله الا الله.

(صحيح مسلم شريف، ج : 1، ص : 300)

امام ابن ماجہ ابو سعید الخذری سے روایت کرتے ہیں :

قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم لقنوا موتاکم لا اله الا الله.

(ابن ماجه، ص : 104)

موت کے وقت یا تدفین کے بعد مردے کو کلمہ طیبہ یاد دلانا یا تلقین کرنا سنت ہے۔

امام شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

قد روی عن النبی صلی الله عليه وآله وسلم انه امر بالتلقين بعد الدفن فيقول : يا فلان بن فلان اذکر دينک الذی کنت عليه من شهادة ان لا اله الله وان محمد رسول الله و ان الجنة حق والنار حق و ان البعث حق و ان الساعة اتية لا ريب فيها و ان الله يبعث من فی القبور و انک رضيت بالله ربا وبالاسلام دينا و بحمد صلی الله عليه وآله وسلم نبيا و بالقرآن اماما و بالکعبة قبلة و بالمومنين اخوانا.

(امام عابدين شامی، ج : 2، ص : 191)

آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے حکم دیا کہ تدفین کے بعد مردے کو تلقین کرو۔ یہ کہے اے فلاں کے بیٹے یاد کرو وہ دین جس پر تم دنیا میں تھے یعنی کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ جنت اور دوزخ کے ہونے اور قیامت کے قائم ہونے پر جس میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ اللہ پاک اہل قبور کو اٹھائے گا اور تم اللہ کو رب مانتے تھے، اسلام کو دین مانتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی اور رسول مانتے تھے، کعبہ کو قبلہ اور تمام مسلمانوں کو بھائی مانتے تھے۔

پھر فرماتے ہیں :

لا نهی عن التلقين بعد الدفن لانه لا ضرر فيه بل فيه نفع فان الميت يستانس بالذکر علی ما ورد فيه الاثار.

تدفین کے بعد تلقین سے منع نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ اس میں اس کو نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہے اس لیے کہ مردہ ذکر سے خوش ہوتا ہے جیسا کہ آثار صحابہ سے واضح ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-06-






Comments are Closed