Pages
Archives
- September 2012 (3)
- May 2012 (7)
- April 2012 (8)
- March 2012 (3)
- December 2011 (3)
- November 2011 (3)
- October 2011 (5)
- September 2011 (42)
- August 2011 (8)
- July 2011 (3)
- June 2011 (3)
- April 2011 (94)
- March 2011 (28)
- February 2011 (61)
- January 2011 (80)
- December 2010 (16)
- November 2010 (3)
- October 2010 (56)
- September 2010 (359)
Important Links
Durood o Salam by Minhaj-ul-Quran| New Exclusive Soul Piercing Nasheed| يانبي سلام عليك
Listen to this beautiful Durood Sharif read by Amjad Bilali & Ansar Qadri in a new style by Minhaj-ul-Quran International founded by Shaykh-ul-Islam Dr Tahir-ul-Qadri www.minhaj.org
Musical Instruments Melody Ecstasy & Wajd سُر، ساز اور وجد و رقص
مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی
آج کے دور میں قرآن و حدیث سے ناآشنا لوگ اور احکامات کی علت و وجوہ سے نابلد احباب کئی جائز چیزوں پر بھی فوراً ناجائز اور حرام کا حکم لگانے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ قرآن پاک کی آیات اور احادیث مبارکہ میں موجود متعلقہ موضوع کے حوالے سے اثبات پر مبنی احادیث سے بھی عمداً چشم پوشی کرتے ہیں۔ وہ موضوعات جو اکثر ان احباب کے فتوؤں کی زد میں رہتے ہیں اُن میں سے ایک موضوع سُر، ساز، موسیقی اور وجد و رقص بھی ہے۔ کچھ شرائط اور علل کی بناء پر سُر، ساز اور موسیقی جائز ٹھہرتی ہے اور اگر وہ شرائط و وجوہات نہ پائی جائیں تو یہ موسیقی ناجائز ہے۔ محترم مفتی صاحب نے اپنے اس تفصیلی مضمون میں سُر، ساز اور وجد و رقص کے بارے میں شرعی احکامات کیا ہیں۔۔۔؟ کیا موسیقی کا سننا جائز ہے۔۔۔؟ بعض اوقات سُر اور ساز سے لوگوں پر جذب کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور وہ وجد و رقص کرنا شروع کردیتے ہیں، اس بارے شریعت کے کیا احکامات ہیں۔۔۔؟ اسی طرح آج کل دف اور موسیقی کے ساتھ نعت بھی پڑھنے کا رواج عام ہے کیا سُر، ساز اور موسیقی کے ساتھ نعت شریف کا پڑھنا جائز ہے۔۔۔؟ اور اس طرح کے کئی سوالات کے جامع جوابات دیئے۔ اس مضمون کے ذریعے اس موضوع اور دیگر کئی موضوعات کے متعلق اصولی و فنی معلومات قرآن و احادیث کی روشنی میں نذرِ قارئین ہے :
اللہ تعالیٰ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر اللہ والوں کے عشق و محبت کی باتیں سن کر کچھ لوگوں پر حال طاری ہوجاتا ہے۔۔۔ جذب کی کیفیت آجاتی ہے۔۔۔ یہ کیفیت انسانوں پر ہی نہیں بلکہ حیوانوں اور جمادات و نباتات پربھی ہے۔ اس کیفیت کے طاری ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کائنات کے ذرہ ذرہ میں موجزن ہے۔ یہ محبت جب پورے شباب پر ہو تو جذب و کیف کی کیفیت طاری ہونا انہونی بات نہیں اور شریعت میں کسی بھی جگہ پر جذب و مستی اور کیفیت و حال کے طاری ہونے کی ممانعت نہیں آئی۔ آیئے قرآن و سنت کے حوالے سے سُر، ساز، موسیقی اور وجد و رقص کے بارے احکامات جانتے ہیں۔
قرآن کریم کی روشنی میں
٭ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :
وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ وَكُنَّا فَاعِلِينَ.
(الانبياء، 21 : 79)
’’اور ہم نے پہاڑوں اور پرندوں (تک) کو داؤد (علیہ السلام) کے (حکم کے) ساتھ پابند کر دیا تھا وہ (سب ان کے ساتھ مل کر) تسبیح پڑھتے تھے، اور ہم ہی (یہ سب کچھ) کرنے والے تھے‘‘۔
1۔ قاضی بیضاوی اور امام آلوسی فرماتے ہیں کہ پہاڑ، پتھر، پرندے حضرت داؤد علیہ السلام کے ساتھ آپ کی موافقت و پیروی میں اللہ تعالیٰ کی پاکی بولتے، تسبیح و تحمید کرتے۔ (قاضی بیضاوی م791ھ، انوار التنزیل واسرار التاویل، 2۔ 37، طبع مصر) (ابوالفضل شہاب الدین سید محمود آلوسی بغدادی م 1270ھ۔ روح المعانی تفسیر القرآن العظیم والسبع المثانی طبع ملتان17/76)
2۔ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
1۔ داؤد علیہ السلام اپنے پروردگار کا ذکر کرتے تو آپ کے ساتھ پہاڑ اور پرندے اپنے رب کا ذکر کرتے۔
2۔ داؤد علیہ السلام تسبیح کرتے تو پہاڑ اور پرندے جواب دیتے۔
3۔ داؤد علیہ السلام جب ذکر کے بعد خاموش ہوتے تو اللہ تعالیٰ پہاڑوں کو تسبیح کا حکم دیتے، وہ تسبیح پڑھتے تو آپ کا ذوق و شوق بڑھ جاتا۔
(امام فخرالدین رازی، تفسیر کبیر، 22۔ 199 ) طبع
فرمان باری تعالیٰ ہے :
إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِO
’’بے شک ہم نے پہاڑوں کو اُن کے زیرِفرمان کر دیا تھا، جو (اُن کے ساتھ مل کر) شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرتے تھے‘‘۔ (ص، 38 : 18)
1۔ اس آیت مبارکہ کے حوالے سے امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پہلی صورت یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ کے حجم میں زندگی، عقل، قدرۃ اور قوت گویائی پیدا فرمادی۔ لہذا پہاڑ اور پرندے آپ کے ساتھ تسبیح کرتے۔ اس کی نظیر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبَّه لِلْجَبَل. جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ میں عقل و فہم پیدا فرما دیا پھر اس میں اللہ تعالیٰ نے دیدار رکھ دیا، یہاں بھی ایسا ہی ہوا۔
دوسری صورت یہ کہ اللہ تعالیٰ نے داؤد علیہ السلام کو اتنی اونچی اور خوبصورت آواز دی تھی کہ تمام پہاڑوں کے ساتھ وہ سریلی بلند آواز گونجتی تھی۔ اس سریلی آواز پر چرند پرند بھی جمع ہو جاتے اور نغمات لاہوتی کا رنگ ہر چیز پر جم جاتا اور ساری کائنات آپ کی ہمنوا ہوجاتی۔
تیسری صورت یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں کم ہی کسی کو اتنی خوبصورت سریلی آواز دی ہوگی۔ جب زبور پڑھتے تو وحشی جانور بلا جھجک آپ کے پاس جمع ہوجاتے یہاں تک کہ آپ ان کو گردنوں سے پکڑ لیتے۔
چوتھی صورت یہ کہ اللہ پاک نے پہاڑ آپ کے ساتھ مسخر کر دیئے اور داؤد علیہ السلام جہاں جانا چاہتے پہاڑ آپ کے ہمراہ چلتے۔
(الامام الرازی، تفسیر کبیر ج26۔ 185 )
2۔ امام قرطبی، الجامع لاحکام القرآن میں فرماتے ہیں کہ
کان داؤد يمر بالجبال مسجا والجبال تجاور بالتسبيح وکذلک الطير وقيل کان داؤد اذا وجد فترة امرالجبال فسبحت حتی يشتاق ولهذا قال (وسخرنا) ای جعلنا ها بحيث تطيعه اذا امرها بالتسبيح وقيل ان سيرها معه تسبحيها….. وکل محتمل.
’’داؤد علیہ السلام پہاڑوں سے تسبیح و تقدیس کرتے گذرتے تو پہاڑ جواب میں تسبیح کرتے، یونہی (پرندے) اور کہا گیا ہے جب داؤد علیہ السلام اُدھر سے رابطہ میں انقطاع محسوس کرتے، پہاڑوں کو تسبیح و تقدیس (ذکر محبوب) کا حکم دیتے۔ وہ تسبیح کرتے یہاں تک ذوق و شوق کی لذت سے بہرہ ور ہوتے، اسی لئے فرمایا ہم نے پہاڑوں کو اس کے لئے مسخر کردیا یوں کہ وہ آپ کی اطاعت کرتے جب بھی آپ ان کو تسبیح کا حکم کرتے اور کہا گیا ہے کہ پہاڑوں، پرندوں اور درندوں کا آپ کے ساتھ چلنا ہی ان کی تسبیح تھی اور یہ سب احتمالات ممکن ہیں‘‘۔
(ابوعبدالله محمد بن احمد انصاری القرطبی. الجامع لاحکام القرآن ج 11. ص 212)
احادیث مبارکہ کی روشنی میں
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور علیہ السلام ایک غزوہ سے لوٹے، ایک سانولے رنگ کی لڑکی حاضر خدمت ہوئی۔ عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ پاک آپ کو بحفاظت واپس لایا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دف بجاؤں گی۔ فرمایا :
ان کنت نذرت فافعلی والا فلا قالت انی کنت نذرت.
’’اگر تو نے نذر مانی تھی تو پوری کر، ورنہ رہنے دے۔ اس نے عرض کی میں نے نذر مانی تھی‘‘۔
فعقد رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ گئے اور اس لڑکی نے دف بجایا۔
(امام احمد بن حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ج 5، ص 356 طبع بیروت)
علامہ ابنِ منظور افریقی، لسان العرب میں غناء (گانا) کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
کل من رفع صوته و والاه فصوته عندالعرب غناء…
’’اونچی اور اچھی آواز سے مسلسل گانا عربوں کے ہاں غناء یعنی گانا ہے‘‘۔
(علامہ ابن منظور افریقی ’’لسان العرب‘‘ ج 10/135 طبع بیروت)
٭ امام بخاری ’’باب الشعر فی المسجد‘‘ میں مشہور حدیث لائے ہیں۔
يا حسان اجب عن رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم. اللهم ايده بروح القدس.
’’حسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے گستاخ، شعراء کو جواب دو۔ اے اللہ اس (حسان) کی مدد فرما روح القدس (جبریل علیہ السلام) کے ذریعہ‘‘۔
شارح بخاری علامہ بدارلدین عینی رحمہ اللہ ترجمۃ الباب کی شرح میں فرماتے ہیں :
ان الشعرا المشتمل علی الحق مقبول بدليل دعاء النبی صلی الله عليه وآله وسلم لحسان علی شعره فاذا کان کذلک لا يمنع فی المسجد کسائر الکلام المقبول.
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ج 4۔ 217 طبع کوئٹہ)
’’وہ شعر جو حق پر مشتمل ہو مقبول ہے۔ اس دلیل سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسان کو ان کی شاعری پر دعا فرمائی۔ جب حقیقت یہ ہے کہ جس طرح باقی کلام مقبول مسجد میں منع نہیں شعر بھی منع نہیں‘‘۔
علامہ عینی مزید فرماتے ہیں : ’’اس میں دلیل ہے کہ سچا شعر مسجد میں سننا، سنانا حرام نہیں، حرام وہ ہے جس میں بیہودگی اور جھوٹ ہو اور وہ اخلاق سے گرا ہوا ہو۔ اس کی دلیل سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث ہے جس کو امام ترمذی نے اپنی تائید و تصحیح کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں منبر بچھایا کرتے جس پر کھڑے ہوکر وہ کفار کی ہجو کرتے تھے‘‘۔
ابو نعیم اصبہانی نے کتاب المساجد میں لکھا ہے کہ دور جاہلیت کے گندے اور باطل اشعار مساجد (یا کسی بھی جگہ) ممنوع ہیں۔ رہے اسلامی اور حقیقت پر مبنی اشعار ان کی اجازت ہے، وہ ممنوع نہیں۔ امام شعبی، عامر بن سعد، محمد بن سیرین، سعید بن المسیب، القاسم، الثوری، الاوزاعی، ابوحنیفہ، مالک، شافعی، احمد، ابو یوسف، محمد، اسحق، ابو ثور، ابو عبید رضی اللہ عنہم نے کہا، اس شعر کے پڑھنے گانے میں کوئی حرج نہیں جس میں کسی کی ناحق ہجو نہ ہو۔ کسی مسلمان کی عزت کو پامال نہ کیا جائے۔ جس میں فحاشی نہ ہو۔ (عمدۃ القاری شرح بخاری للعینی ج 4۔ 219)
٭ سیدہ ربیع بنت معوذ بن عضراء سے روایت ہے میری شادی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف لائے۔۔۔ لڑکیوں نے دف بجانا شروع کر دیا اور غزوہ بدر میں شہید ہونے والے میرے بزرگوں کے محاسن بیان کرنے لگے۔ ایک لڑکی نے یہ مصرع گایا۔
وفينا نبی يعلم ما فی غد.
’’ہم میں وہ نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں۔ فرمایا اسے چھوڑ اور جو گا رہی تھی وہی گاؤ‘‘۔ (بخاری)
اس سے دف بجانا اور گانا گانا مسنون معلوم ہوا۔
٭ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ایک عورت کی ایک انصاری سے شادی ہو رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ماکان معکم لهو فان الانصار يعجبهم اللهو.
’’تمہارے ہمراہ کوئی کھیل تماشا نہیں، انصار کو کھیل تماشا پسند ہے‘‘۔ (بخاری)
٭ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
اعلنوا هذا النکاح واجعلوه فی المساجد واضربوا عليه بالدفوف.
’’اس نکاح کا اعلان کرو، اسے مسجد میں کرو اور اس پر (مسجد کے باہر) ڈھول دف بجاؤ‘‘۔ (ترمذی)
٭ حضرت محمد بن حاطب الجمعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :
فصل مابين الحلال والحرام الصوت والدف فی النکاح.
’’حلال اور حرام (نکاح و زناء) کے درمیان فرق آواز (گانا) اور دف بجانا ہے‘‘۔ (احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
نکاح میں گانے بھی ہوتے ہیں، دف بھی بجتے ہیں تاکہ خوشی کا اظہار بھی ہو اور ہر ایک کو شادی و نکاح کا پتہ بھی چل جائے جبکہ بدکاری چھپ چھپا کر ہوتی ہے تاکہ کسی کو پتہ نہ چل جائے۔ ان چیزوں کو نادانی سے حرام سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ پیارے آقا علیہ السلام کی سنتیں اور شرعی احکام ہیں۔ علماء کہلانے والوں کو کبھی غور کرنا چاہئے اور کتب حدیث میں کتاب النکاح ضرور پڑھنی چاہئے۔
شب کو روز و روز کو شب تار جو چاہے کرے
تو نے جو چاہا کیا اے یار! جو چاہے کرے
فحاشی پھیلانے والے اسباب
جو چیز بھی انسان کو نماز، روزہ، والدین کی خدمت، بیوی بچوں کی ضروریات، رزق حلال کمانے سے غافل کریں۔ آدمی اپنے فرائض بجا لانے میں سست ہو، اُن اعمال سے پرہیز ضروری ہے۔ بوڑھے والدین کو ہمہ وقت کھانے پینے میں، دوا و غذا میں، صحت و تفریح میں اولاد کی ضرورت ہے، اسی طرح بعض اوقات دنیاوی مصروفیات یا ذوق و شوق کی بہتات کی وجہ سے بیوی، خاوند کا منہ اور بچے باپ کا منہ دیکھنے کو ترستے ہیں، کاروبار تباہ ہو رہا ہے، بے عملی و بدعملی کا غلبہ ہو رہا ہے، جوڑنے والے رشتے منقطع ہو رہے ہیں، قوم و ملک پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ خداداد صلاحیتیں زنگ آلود ہو رہی ہیں، قیمتی زندگی ضائع ہورہی ہے۔ ان تمام خرابیوں کی بنیاد نام نہاد رہبانیت و ریاضت ہو، سیاست و تصوف ہو، یا کثرت عبادت ہو، گانا بجانا ہو یا قوالی ہو، واجب الترک ہے۔ اس سے پرہیز ضروری ہے۔ کھاؤ، پیو مگر حد سے نہ بڑھو، کام کرو اور آرام بھی۔ مسجد میں بھی جاؤ کھیت و کھلیان میں بھی۔ منڈی و بازار میں بھی، مکتب و جامعہ میں بھی اور دفتر و کچہری میں بھی مگر توازن نہ ٹوٹے۔ حد اعتدال پر رہو۔
٭ ابن جریح کہتے ہیں میں نے عطاء سے کہا سُر سے قرآن پڑھنا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں۔ حضرت داؤد علیہ السلام ياخذ المعزفة فيعزف بها عليه يردد عليه صوته.
’’ساز لے کر بجاتے اور ان پر آواز دہراتے۔
(الحافظ الکبیر ابوبکر عبدالرزاق بن ہمام الصنعانی ولادت 126ھ/ م 211ھ المصنف ج 2، ص 481)
٭ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مااذن الله لنبی ما اذن لنبی ان يتغنی بالقرآن.
’’کسی نبی کو اللہ تعالیٰ اتنی اجازت نہیں جتنی اپنے نبی کو ترنم سے قرآن پڑھنے کی اجازت دی ہے‘‘۔
(ایضاً ص 483)
٭ حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ يَتَغَنَّ بالقرآن.
’’وہ ہم میں سے نہیں جس نے قرآن کریم سُر سے نہ پڑھا‘‘۔ (ایضاً)
٭ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ رات کے وقت سورہ بقرہ پڑھ رہے تھے :
وفرسه مربوطة عنده اذ جالت الفرس فسکت فسکنت فقرا فجالت فسکت فکسنت ثم قرا فجالت الفرس فانصرف وکان ابنه يحيیٰ قريبا منها فاشفق ان تصيبه ولما اخره رفع رأسه الی السمآء فاذا مثله انطله فيها مثل المصابيح فلما اصبح حدث النبی صلی الله عليه وآله وسلم فقال اقرا يا ابن حضير اقرا يا ابن حضير قال فاشفقت يارسول الله ان تطأ يحيیٰ وکان منها قريبا فانصرفت اليه ورفعت راسی الی السمآء فاذا مثل انظلّه فيها امثال المصابيح فخرجت حتی لا اراها قال وتدری ماذاک قال لا قال تلک الملئکة دنت لصوتک ولو قرات لاصبحت ينظر الناس اليها لا تتواری منهم.
’’ان کا گھوڑا پاس ہی بندھا ہوا تھا، اچانک گھوڑا رقص کرنے لگا آپ نے تلاوت بند کردی، گھوڑا پرسکون ہوگیا۔ پھر تلاوت شروع ہوئی، گھوڑا وجد کرنے لگا اور یہ چپ ہوگئے پھر قرآن پڑھنے لگے، گھوڑا وجد میں آگیا، یہ چپ ہوگئے، ان کے بیٹے یحییٰ گھوڑے کے قریب تھے یہ گھبرائے کہ گھوڑا اسے تکلیف نہ پہنچائے۔ تلاوت مکمل کرکے آسمان کی طرف دیکھا تو جیسے بادل کا سائبان ہو جس میں چراغ روشن ہوں۔ صبح تمام بات سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنادی۔ فرمایا حضیر پڑھا کرو، حضیر پڑھا کرو۔ عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گھبرا گیا کہیں یحییٰ کو لتاڑ نہ دے۔ جو گھوڑے کے قریب تھا میں اس کی طرف لوٹ گیا اور میں سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تو جیسے بادل کا سائبان ہو جس میں چراغ ہوں، سو میں باہر نکل گیا کہ وہ نظر نہ آئے۔ فرمایا جانتے ہو وہ کیا تھا؟ بولے نہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! فرمایا تیری آواز سن کر فرشتے آگئے تھے۔ اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح لوگ اسے دیکھتے اور کوئی چیز ان سے چھپی نہ رہتی‘‘۔ (متفق علیہ)
٭ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب سورہ کہف کی تلاوت کر رہے تھے، ان کے پاس ایک عمدہ گھوڑا دو مضبوط رسوں سے بندھا ہوا تھا، بادل اس پر چھا گیا اور اس سے قریب اور مزید قریب ہونے لگا۔ ان کا گھوڑا اچھلنے کودنے لگا۔ صبح سرکار ابد قرار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں سب معاملہ بیان کر دیا سرکار نے فرمایا :
تلک سکينة تنزلت بالقرآن.
’’یہ قرآن پاک کے سبب رحمت و تسکین نازل ہورہی تھی‘‘۔ (متفق علیہ)
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ما اذن الله لشئی مااذن لنبی حسن الصوت بالقرآن يجهر به.
’’اللہ تعالیٰ اپنے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھی آواز کے ساتھ اونچی آواز سے جیسے قرآن پڑھنے کا حکم دیا کسی اور چیز کو اچھے لہجہ میں بآواز بلند اس طرح پڑھنے کا حکم نہیں دیا‘‘۔ (متفق علیہ)
٭ انہی سے یہ روایت اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ليس منا من لم يتغن بالقرآن.
’’جس نے قرآن کریم لے اور سُر سے نہیں پڑھا وہ ہم میں سے نہیں‘‘۔ (عبدالرزاق المصنف2/483)
٭ حضرت براّ بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
زينوا القرآن باصواتکم.
’’قرآن کریم کو اپنی آواز سے مزین و خوبصورت کرو‘‘۔ (احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ، دارمی)
٭ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے :
حسنوا القرآن باصواتکم فان الصوت الحسن يزيد القرآن حسنا.
’’اپنی آوازوں سے قرآن کو حسین بناؤ کہ اچھی آواز قرآن کے حسن میں اضافہ کرتی ہے‘‘۔ (دارمی)
(جاری ہے)
تحریک کے عظیم رہنما محترم محمد اشرف اوپل کا انتقال
ناظم منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈنمارک محمد بلال اوپل کے والد گرامی اور تحریک منہاج القرآن کے دیرینہ رہنماء محمد اشرف اوپل مورخہ 16 اپریل 2009ء کو ڈنمارک میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ مورخہ 19 اپریل 2009ء بروز اتوار بعد نماز عصر مرحوم کی نماز جنازہ جامع مسجد منہاج القرآن، لاہور (پاکستان) کے سامنے ادا کی گئی۔ تحریک منہاج القرآن کے مرکزی امیر تحریک صاحبزادہ مسکین فیض الرحمن درانی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ اس موقع پر تحریک منہاج القرآن کے مرکزی قائدین، منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈنمارک کے عہدیداران اور سٹاف ممبران و کارکنان نے شرکت کی۔
محمد اشرف اوپل صاحب کا شمار منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈنمارک کے بانی اراکین اور سینئر رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ آپ کی مصطفوی مشن کی ترویج و اشاعت اور دیار کفر میں اشاعت اسلام کے لئے کی جانے والی خدمات قابل تعریف ہیں۔ انہی شاندار خدمات کی وجہ سے ان کی تدفین روضۃ المخلصین میں کی گئی۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے محترم محمد اشرف اوپل کی وفات پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ مرحوم سچے عاشق رسول تھے اور تحریک منہاج القرآن کا سرمایہ تھے ۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشن کے لئے وقف کر رکھی تھی اور اسلام کے لئے شاندار خدمات سرانجام دیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو آقا دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ جملہ مرکزی قائدین اور سٹاف ممبران محترم اشرف اوپل صاحب کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک کے صدقے جوار رحمت میں جگہ عطا کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین






الفقہ : سُر، ساز اور وجد و رقص (آخری حصہ)
آج کے دور میں قرآن و حدیث سے ناآشنا لوگ اور احکامات کی علت و وجوہ سے نابلد احباب کئی جائز چیزوں پر بھی فوراً ناجائز اور حرام کا حکم لگانے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ قرآن پاک کی آیات اور احادیث مبارکہ میں موجود متعلقہ موضوع کے حوالے سے اثبات پر مبنی احادیث سے بھی عمداً چشم پوشی کرتے ہیں۔ وہ موضوعات جو اکثر ان احباب کے فتوؤں کی زد میں رہتے ہیں اُن میں سے ایک موضوع سُر، ساز، موسیقی اور وجد و رقص بھی ہے۔ کچھ شرائط اور علل کی بناء پر سُر، ساز اور موسیقی جائز ٹھہرتی ہے اور اگر وہ شرائط و وجوہات نہ پائی جائیں تو یہ موسیقی ناجائز ہے۔ محترم مفتی صاحب نے اپنے اس تفصیلی مضمون میں جن موضوعات پر مدلل جوابات دیئے ہیں ان میں سے کچھ یہ ہیں مثلاً سُر، ساز اور وجد و رقص کے بارے میں شرعی احکامات کیا ہیں۔ ۔ ۔؟ کیا موسیقی کا سننا جائز ہے۔ ۔ ۔؟ بعض اوقات سُر اور ساز سے لوگوں پر جذب کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور وہ وجد و رقص کرنا شروع کر دیتے ہیں، اس بارے شریعت کے کیا احکامات ہیں۔ ۔ ۔؟ اسی طرح آج کل دف اور موسیقی کے ساتھ نعت بھی پڑھنے کا رواج عام ہے کیا سُر، ساز اور موسیقی کے ساتھ نعت شریف کا پڑھنا جائز ہے۔ ۔ ۔؟ اور اس طرح کے کئی سوالات اور دیگر کئی موضوعات کے متعلق اصولی وفنی معلومات قرآن و احادیث کی روشنی میں بیان کیں۔ اس مضمون کے پہلے اور دوسرے حصے (اشاعت مجلہ ماہ مئی، جون 09ء) میں متعدد قرآنی آیات و احادیث کی روشنی میں سُر، ساز، موسیقی، شعرو شاعری اور وجد و رقص پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس مضمون کا آخری حصہ نذرِ قارئین ہے :
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے لعبت الحبشه بحرابهم فرحا لقدومه تو حبشیوں نے سرکار کی آمد کی خوشی میں نیزہ بازی کا کھیل کھیلا‘‘۔ (ابوداؤد)
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے :
ان ابا بکر دخل عليها وعندها جاريتان فی ايام منی تغنيان تدفغان وتضربان والنبی صلی الله عليه وآله وسلم متغش بثوبه فانتهرهما ابو بکر فکشف النبی صلی الله عليه وآله وسلم عن وجهه فقال دعهما يا ابا بکر فانها ايام عيد وتلک الايام ايام منی.
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میرے پاس ایام منی میں تشریف لائے، اُس وقت میرے پاس دو بچیاں بیٹھی تھیں جو کچھ گارہی تھیں اور د ف بجا رہی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چہرہ پر کپڑا ڈالے آرام فرما تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان دونوں بچیوں کو گانے اور دف بجانے سے منع فرمایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کو چھوڑ دو یہ عید کے ایام ہیں۔
وقالت عائشة رايت النبی صلی الله عليه وآله وسلم يسترنی وانا انظر الی الحبشة وهم يلعبون فی المسجد فزجرهم عمر فقال النبی صلی الله عليه وآله وسلم دعهم امنا بنی ارفدة.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی چادر میں چھپایا اور میں نے حبشیوں کو دیکھا جو مسجد میں نیزہ بازی کا کھیل کھیل رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں روکا تو آپ نے فرمایا : ان کو چھوڑ دے یہ بنی ارفدہ ہے۔
علامہ بدرالدین ابو محمد محمود بن العینی رحمۃ اللہ علیہ (م 855 ھ) شرح میں لکھتے ہیں کہ ان احادیث مبارکہ سے ایک بات یہ ثابت ہوئی کہ شارع علیہ السلام کے سامنے خوشی کے موقع پر دف بجایا، گانا گایا اور کھیل کھیلا گیا۔ یعنی جو حلال و حرام کو بیان فرمانے والے ہیں اُن کے سامنے یہ امور بجا لائے گئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع نہ فرمایا۔ اسی طرح دف بجا کر اور جائز و مباح گانا گا کر اعلان نکاح کیا گیا تاکہ نکاح اور چھپ چھپا کر بدکاری کرنے میں فرق ہو جائے۔
٭ امام ترمذی نے سیدنا محمد بن حاطب الجمعی رضی اللہ عنہ کی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے :
فصل مابين الحلال والحرام الدف والصوت.
’’حلال اور حرام میں فرق دف بجانا اور گانا ہے‘‘۔
ترمذی نے اسے حدیث حسن، ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔
٭ ترمذی نے ہی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے :
اعلنوا هذا النکاح واجلعوه فی المساجد وقال واضربوا عليه بالغربال.
’’اس نکاح کا اعلان کیا کرو اور یہ مسجدوں میں کیا کرو اور اس پر دف بجایا کرو‘‘۔
٭ نسائی نے سیدنا قرظۃ بن کعب اور سیدنا ابو مسعود کی یہ روایت نقل کی ہے، دونوں فرماتے ہیں :
رخص لنا فی اللهو عندالعرس.
’’شادی کے موقع پر ہمیں کھیل کود کی رخصت دی گئی‘‘۔
٭ طبرانی نے حضرت السائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لڑکیوں سے ملے جو کچھ اس طرح سے گا رہی تھیں۔
حَيُّوْنَا نحَيّکُمْ.
’’تم ہمیں زندہ کرو! ہم تمہیں زندہ کریں گی‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یوں نہ کہو، بلکہ یوں کہو حَيَّانَا وَحَيَّاکُمْ ’’اللہ ہمیں سلامت رکھے اور تمہیں سلامت رکھے۔ ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ ہمیں اس کی اجازت دیتے ہیں؟ فرمایا ہاں اِنَّه نِکَاحٌ لَا سَفَاحٌ. ’’یہ نکاح ہے بدکاری نہیں‘‘۔
٭ ابن ماجہ نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ
انها انکحت ذات قرابة لها من الانصار.
’’انہوں نے اپنی ایک انصاری عزیزہ کا نکاح کیا‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے لڑکی دلہن بنا دی؟ عرض کی جی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، فرمایا : ارسلتم معها من یغنی ’’اس کے ساتھ کوئی گانے والا بھیجا؟، میں نے عرض کی : نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : انصار کے لوگوں میں گانے پسند کئے جاتے ہیں۔ اگر تم اس کے ہمراہ کوئی ایسا بھیجتے جو کہتا اَتيْنَاکُمْ اتينَاکُمْ فَحَيّانَا وَحَيَّاکُمْ ’’ہم تمہارے پاس آئے، تمہارے پاس آئے، اللہ پاک، ہمیں بھی سلامت رکھے تمہیں بھی سلامت رکھے‘‘۔
(عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ج 20، ص 136 )
حبشیوں کا طرزِ عمل
ان الحبشة تذفن بين يدی النبی صلی الله عليه وآله وسلم ويتکلمون بکلام لهم، فقال مايقولون؟ قال يقولون مَحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِح.
’’حبشی، رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وجد و رقص (بھنگڑا) کرتے تھے اور اپنی زبان میں کچھ کہتے تھے۔ پوچھا کیا کہتے تھے؟ کہا : یہ کہتے تھے محمد (اللہ) کے نیک بندہ ہیں‘‘۔
(علامہ عینی، عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری ج 6۔ ص 270 طبع کوئٹہ)
1. علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں :
ولا شک ان يوم قدومه صلی الله عليه وآله وسلم کان عندهم اعظم من يوم العيد.
’’بے شک سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (مدینہ منورہ میں) تشریف آوری ان کے نزدیک عید کے دن سے بڑھ کر خوشی تھی‘‘۔ (ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، شرح صحیح بخاری ج 2، ص 443)
2. فقام النبی صلی الله عليه وآله وسلم فاذا حبشية تزفن ای ترقص والصبيان حولها فقال يا عائشة تعالی فانظري.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آواز سن کر، کھڑے ہوئے، دیکھا ایک حبشیہ رقص کررہی ہے اور اس کے آس پاس بچے جمع ہیں۔ فرمایا عائشہ! آکر دیکھیں۔ ۔ ۔ ان کی زبان پر اس دن یہ بول تھے۔ اباالقاسم طیبا۔
3. امام احمد، السراج اور ابن حبان نے حضرت انس کی روایت بیان کی۔
ان الحبشة کانت تزفن بين يدی النبی صلی الله عليه وآله وسلم و يتکلمون بکلام لهم فقال مايقولون؟
حبشی لوگ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رقص کرتے تھے اور اپنی زبان میں کچھ کہتے تھے پوچھا کیا کہہ رہے تھے؟ کہا اس دن ان کے کلام میں یہ شعر بھی تھا :
محمد عبد صالح. محمد بہت اچھے بندے ہیں۔
اَبَاالْقَاسِم طَيِّبًا ’’اے ابوالقاسم آپ بہت ستھرے ہیں‘‘۔ (ابن حجر عسقلانی ج 2، ص 444)
ساز اور آواز فقہائے کرام کے نزدیک
ردالمختار میں ہے کہ
عرفنا من هذا ان التغنی المحرم ما کان فی اللفظ مالا يحل کصفة الذکور والمراة المعينة الحية ووصف الخمرالمهيج اليها والحانات والهجاء لمسلم او ذمی اذا ارادالمتکلم هجاه لا اذا ارادانشاده الاشهاد به اوليعلم فصاحته وبلاغته وکان فيه وصف امراة ليست کذلک اوالزهريات المتضمنه وصف الرياحين والازهار والمياه فلا وجه لمنعه علی هذا.
’’اس سے ہم کو معلوم ہوا کہ حرام وہ گانا ہے جس کے الفاظ حرام ہوں جیسے کسی معین زندہ مرد یا عورت کی صفت بیان کرنا یا اس کی طرف جوش دلانے والے شراب کا ذکر کرنا یا بے ڈھنکی سریں ہو۔ کسی مسلمان یا ذمی کی دانستہ برائی بیان کی جائے۔ وہ شعر حرام نہیں جس سے مقصد کسی مفہوم کی وضاحت ہو یا فصاحت و بلاغت کی مثال۔ کسی غیر معینہ عورت کی تعریف کی جائے یا کلیاں جن سے پھول پتیاں بنتی ہیں یا پانی (دریا، چشمے، ندی نالے وغیرہ) شعر و شاعری میں ان چیزوں کا بیان منع نہیں۔ ۔ ۔ اور جن صوفیاء نے گانے قوالی وغیرہ کو جائز قرار دیا ہے وہ ان لوگوں کے لئے ہے جو کھیل کود سے خالی اور تقوی کے زیور سے مزین ہوں نیز جنہیں گانے قوالی کی ایسی مجبوری ہو جیسے مریض کو دواء کی‘‘۔
گانے کے جواز کے لئے چھ شرائط
1۔ محفل میں کوئی بے ریش نہ ہو، تمام مجمع ایک جنس سے ہو۔
2۔ قوال کی نیت اخلاص ہو، کھانا اور پیسے بٹورنا نہ ہو۔
3۔ محض کھانے اور نذرانوں کے لئے اجتماع نہ ہو۔
5۔ صرف شدید وجد کی حالت میں کھڑے ہوں۔
6۔ وجد و رقص کے اظہار میں سچے ہوں۔
فتاویٰ تاثیر خانہ میں ہے کہ اشعار میں اگر فسق و فجور کا ذکر نہ ہو، نوجوان لڑکوں، لڑکیوں کا ذکر نہ ہو، وغیرہ تو گانا مکروہ نہیں۔
فتاویٰ ظہیریہ میں ہے کہ شعر و شاعری اور گانے میں مکروہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان ذکر اور قرآن پڑھنے سے غافل ہو جائے اگر یہ وجہ نہ ہو تو شعر گانے میں کوئی حرج نہیں۔
’’تبیین المحارم‘‘ کتاب میں ہے کہ ’’جان لیجئے کہ حرام وہ شعر ہے جس میں فحش یا مسلمان کی برائی بیان کی جائے یا اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر جھوٹ باندھا جائے یا اپنے پاک صاف ہونے کے دعوے ہوں، یا جھوٹ ہو یا مذموم تفاخر ہو۔ یا کسی کے نسب کی برائی ہو یا کسی معین عورت یا بے ریش لڑکے کی تعریف کی جائے جبکہ وہ دونوں زندہ ہوں، یہ سب ناجائز ہے۔ ہاں اگر عورت فوت شدہ ہے یا غیر معین ہے تو اس کی تعریف کرنا درست ہے۔
بے شک آلہ لہو (ڈھول، باجا، بینڈ، بانسری وغیرہ) اپنی ذات میں حرام نہیں۔ ۔ تم دیکھتے نہیں کہ وہی آلہ موسیقی کبھی بجانا جائز و حلال اور دوسرے موقع پر حرام ہو جاتا ہے۔ نیت و مقاصد بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ یہی صورت سماع کی ہے۔ اس میں ہمارے سادات صوفیہ کے لئے دلیل ہے۔ ان کے پیش نظر بڑے پاکیزہ مقاصد ہوتے ہیں جن کو وہی بہتر جانتے ہیں۔ لہذا معترض انکار کی جلد بازی نہ کرے تاکہ ان کی برکت سے محروم نہ ہو۔ یہ اولیاء اللہ ہمارے بزرگوار، نیکو کار ہیں۔ اللہ پاک ہم کو ان کی مدد نصیب فرمائے اور ان کی مقبول دعائیں، برکتیں ہم پر بار بار فرماتا رہے۔
(علامہ امین اشہیر ابن عابدین م 1252ھ شامی ردالمختار ج 6 ص 350 طبع کراچی)
1. ولا بائس ان يکون ليلة العرس دف يضرب به ليعلن به النکاح. . وان کان للغزواة والقافلة يحوز.
’’شادی کی رات دف بجانے میں حرج نہیں تاکہ اس کے ذریعے نکاح کا اعلان ہو اور اگر جہاد کے لئے ہو یا قافلہ کے لئے تو جائز ہے‘‘۔ (شامی ج 6۔ 55 طبع کراچی)
2. محدث ابو عوانہ رحمۃ اللہ نے اپنی صحیح میں یہ اضافہ کیا ہے کہ حبشی بنی ارفدہ کہلاتے ہیں، مطلب یہ کہ یہ ان کا حال اور طریقہ ہے۔ وهو من الامور المباحة فلا انکار عليهم. یہ جائز امور میں سے ہے پس ان پر انکار نہ کیا جائے۔
3. امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بیاہ شادی کے علاوہ آپ دف بجانے کو مکروہ سمجھتے ہیں؟ مثلا! عورت یا بچہ گھر میں دف بجائے، انہوں نے کہا کوئی کراہت نہیں۔
4. فوائد الحدیث میں تیسرا فائدہ کے ضمن میں علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
فيه جواز نظر النسآء والی فعل الرجال الاجانب لانه انما يکره لهن النظر الی المحاسن والاستلذاذ بذلک ونظرالمراة الی وجه الرجل الاجنبی ان کان بشهوة فحرام اتفاقا.
’’اس حدیث سے عورتوں کا اجنبی مردوں کو دیکھنے کا جواز ملتا ہے اس لئے کہ عورتوں کا اجنبی مردوں کو دیکھنا صرف اس صورت میں مکروہ ہے جب وہ ان کے حسن و جمال پر نظر رکھیں اور اس سے لذت اندوز ہوں۔ عورت کا اجنبی مرد کے چہرے کو شہوت کی نیت سے دیکھنا ہو تو بالاتفاق حرام ہے۔ وان کان بغیر شہوۃ فالاصح عدم التحریم اور اگر یہ دیکھنا شہوت کے بغیر ہو تو صحیح تر یہی ہے کہ یہ حرام نہیں۔
(علامہ عینی عمدۃ القادری شرح بخاری ج 6 طبع کوئٹہ)
(کتاب میں کتابت کی غلطی سے عدم التحریم کی جگہ التحریم لکھا گیا ہے جو سیاق و سباق کی رو سے درست نہیں۔ ہزاروی)
تسامحات
بعض حضرات نے کہا یہ واقعات قُلْ لِلْمُوْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ. مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں۔ (النور 24، 31) کے نزول سے پہلے کے ہیں یا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بالغ ہونے سے پہلے کے ہیں۔ یہ بات درست نہیں کیونکہ ابن حبان کی روایت میں ہے کہ یہ واقعہ وفد حبشہ کی مدینہ منورہ میں آمد کے وقت ہوا اور وفد حبشہ 7ھ میں مدینہ منورہ آیا تھا اور اس وقت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عمر مبارک پندرہ سال تھی۔ ۔ ۔
1. پانچویں فائدہ میں لکھتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا عیدوں کے مواقع پر خوشی کا اظہار شعائر دین میں سے ہے۔
2. نویں فائدہ کے ضمن میں لکھتے ہیں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نیکو کاروں کے ڈیرے کھیل کود سے پاک ہوتے ہیں، اگرچہ اس میں گناہ نہ ہو، ہاں ان کی اجازت سے کھیل کود کی اجازت ہے۔ ۔ ۔
3. بارہویں فائدہ کے ضمن میں لکھتے ہیں اس میں لڑکی کی گانے کی آواز سننا جائز ثابت ہوتا ہے اگرچہ باندی مملوکہ نہ ہو کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گانا سننے پر انکار نہیں فرمایا بلکہ ان کے انکار پر انکار فرمایا اور لڑکیاں برابر گاتی رہیں تاآنکہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نکلنے کا اشارہ فرمایا۔
4. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ایک اعرابی کو گانے کی اجازت دی تھی جسے حداء (حدی) کہا جاتا ہے۔ ابن حزم نے کہا گانا، کھیل کود اور وجد و رقص مسجد وغیرہ میں عیدین کے موقع پر اچھی بات ہے۔
(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ج 6 ص 272 طبع کوئٹہ)
5. خطابی نے کہا کہ ایک دو شعر ترنم سے گانا اور سُر لگانا جس میں فحش یا ممنوع باتوں کا ذکر نہ ہو، جائز ہے اور تھوڑے کا حکم زیادہ کے خلاف ہے۔ (ص 274 ایضاً)
6. حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ ہم رسول اللہ کی خدمت اقدس میں بیٹھے ہوئے تھے۔
فکانوا يتناشدون الاشعار ويتذاکرون اشياء من امر الجاهلية ورسول الله صلی الله عليه وآله وسلم ساکت فربما تبسم. (مسند احمد ج 5 ص 105 طبع بيروت)
’’صحابہ کرام شعر و شاعری پر مذاکرہ کرتے (گانا گاتے) اور دور جاہلیت کی باتیں سنتے سناتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموشی سے سنتے اور بسا اوقات مسکراتے‘‘۔
اہل تصوف نے کچھ پہلے بزرگوں کے احوال و اعمال کو دیکھتے ہوئے گانا اور رقص و وجد جائز قرار دیا ہے۔ ۔ ۔ ان بزرگوں کے زمانہ میں کوئی ایک شعر پڑھتا جو ان کے موافق حال ہوتا تو یہ اس سے موافقت کرتے اور نرم دل آدمی جب اپنے حسب حال کلمہ سنتا ہے تو بسا اوقات اس کے عقل پر مدہوشی غالب آجاتی ہے اور غیر اختیاری طور پر کھڑا ہو جاتا ہے اور اس سے غیر اختیاری طور پر حرکات صادر ہوتی ہیں۔ یہ جائز ہے اس میں مواخذہ نہیں اور یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ مشائخ کا عمل ہمارے زمانہ کے اہل فسق و فجور کے عمل جیسا ہوگیا۔ جنہیں احکام شرع کا کوئی علم نہیں۔ دلیل جواز تو دیندار لوگوں سے پکڑی جاتی ہے۔ ۔
امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ بیاہ شادی کے سواء دف بجانا مکروہ ہے؟ مثلاً عورت بچے کی خاطر، بغیر فسق دف بجائے، انہوں نے فرمایا : نہیں، ہاں جس سے بیہودہ اچھل کود ہو میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں۔
(فتاوی عالمگیری ج 5 ص 352 طبع کوئٹہ)
والمختاران ضرب الدف والاغانی التی ليس فيها ماينافی الاداب جائز بلا کراهة مالم يشتمل کل ذلک مفاسد کتبرج النسآء الاجنبيات فی العرس وتهتکهن امام الرجال والعريس ونحو ذلک. والاحرام.
’’مذہب مختار یہ ہے کہ دف اور ساز بجانا جس میں آداب کے خلاف کوئی بات نہ ہو، بلا کراہت جائز ہے جب تک یہ خرابیوں اور بیہودگیوں پر مشتمل نہ ہو (مثلاً بیاہ شادی کے مواقع پر اجنبی عورتوں کا بن ٹھن کا باہر نکلنا، مردوں اور باراتیوں کے سامنے پھُدکنا، مٹکنا وغیرہ) ورنہ حرام۔
(عبدالرحمن الجزیری، الفقہ علی المذاہب الاربعہ ج 4 ص 8 طبع بیروت)
احناف کے نزدیک
ہر عمل جس پر برائی لازم آئے حرام ہے اگرچہ اپنی ذات میں اچھی ہو۔ گانا اس حیثیت سے کہ اس میں لہجے بدل بدل کر اچھی آواز نکالنا ہے تو یہ جائز ہے۔ اس میں ناجائز کوئی چیز نہیں۔ ہاں کبھی ا سکے ساتھ دوسری باتیں لگ کر مکروہ و حرام کردیتی ہیں۔ مثلاً ایسا گانا جس کے نتیجہ میں کسی غیر محرم عورت یا بے ریش لڑکے کا فتنہ پیدا ہو یا مثلاً جو بول شراب پینے پر ابھاریں یا وقت ضائع ہو، فرائض و واجبات کی ادائیگی میں رکاوٹ بن جائے تو حرام ورنہ جائز ہے۔ لہذا گانے میں ایسے الفاظ نہ ہوں جن میں کسی زندہ معینہ عورت کی توصیف ہو کہ یہ شہوت پیدا کرتی اور فتنہ کا باعث بنتی ہے۔ اگر عورت مرگئی ہے تو اس کی تعریف نقصان دہ نہیں کہ اس کی ملاقات کی آس نہیں، بے ریش لڑکے کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اسی طرح گانے میں ایسے الفاظ نہ ہوں جو شراب پینے، وقت ضائع کرنے اور ادائے واجبات میں رکاوٹ کا باعث ہوں۔ اگر یہ خرابیاں نہ ہوں تو گانا جائز ہے۔
(علامہ عبدالرحمن الجزیری، کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ ج 2 ص 42 طبع بیروت)
فرق ہے
ہمارے یہاں ہی نہیں تمام اسلامی و غیر اسلامی ممالک میں خوشی کی تقریبات میں عورتیں، عورتوں کی محفل میں اور مرد سر عام بھنگڑا لڈی، خٹک ناچ اور دیگر علاقائی کھیل کھیلتے اور جذباتِ مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض لوگ بزرگوں کے عرسوں پر بھی اور میلوں ٹھیلوں، ثقافتی پروگراموں میں، تعلیمی و تربیتی اداروں میں بھی، پریڈ ورزش، ایکسر سائز کی صورت میں بھی، وجد و رقص کرتے ہیں یا ہو جاتا ہے، یہ سب کچھ اگر شرعی لباس میں ہو، عورتیں غیر محرم مردوں کے سامنے نہ کریں، گانے کے بول غیر شرعی و غیر اخلاقی نہ ہوں درج بالا عیبوں سے پاک ہوں، یہ پروگرام دیگر فرائض و احکام کی ادائیگی میں حائل نہ ہوں تو قرآن و سنت اور تصریحات ائمہ و فقہاء اور عقل سلیم کے نزدیک درست ہے، گانا بھی اور سننا سنانا بھی۔
اسلام میں موسیقی کا تصور
مرتبہ : محمد تاج الدین کالامی
اسلام ایک عملی اور مکمل ضابطۂ حیات کا حامل دین فطرت ہے، جو رواداری اور اعتدال پسندی کا داعی ہونے کے ناطے ہر معاملے میں اِعتدال کا عمل دخل چاہتا ہے۔ قرآن حکیم میں واضح طور پر ارشاد ہے :
وَّكُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّهُ لاَ يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَO
(الاعراف، 7 : 31)
’’اور کھاؤ اور پیو اور حد سے زیادہ خرچ نہ کرو کہ بے شک وہ بے جا خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتاo‘‘
نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج بیت اﷲ سمیت تمام مذہبی عبادات میں اِعتدال و میانہ روی کا رنگ نمایاں ہے۔ ایسے مواقع بھی ہیں جن میں شریعت نے نماز کی ادائیگی کو ممنوع قرار دیا ہے۔ روزے کی ادائیگی میں شدّت کو سحر اور افطار سے اِعتدال پر لایا جاتا ہے۔ شریعت نے سحر اور افطار کے بغیر مسلسل روزے کی حالت میں رہنے پر سخت قدغن عائد کر رکھی ہے۔ اِسی طرح ہر فرد کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عصمت و آبرو کے تحفظ کی خاطر نکاح کے ذریعے باہمی رشتۂ اِزدواج قائم کرے تاکہ وہ اپنے فطری اور حیاتیاتی تقاضوں کی تکمیل کر سکے۔ اﷲ کی راہ میں خرچ کرنا مستحب اور پسندیدہ عمل ہے لیکن اسے بھی توازن برقرار رکھنے کے لیے حدود و قیود کا پابند کیا گیا ہے تاکہ ایک متوازن راہِ عمل کو یقینی بنایا جا سکے اور کوئی بلادریغ اپنا سب کچھ خرچ کر کے خود بھیک مانگنے پر مجبور نہ ہو جائے۔ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنھما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ ارشاد فرمایا :
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ کِبْرٍ.
’’جس کے دل میں رتی برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘
ایک آدمی نے عرض کیا :
إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَکُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً.
’’آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں، اس کا جوتا عمدہ ہو۔‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
إِنَّ اﷲَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ.
(1. صحيح مسلم، کتاب الإيمان، باب تحريم الکبر وبيانه، 1 : 93، رقم : 91
2. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 1 : 78، رقم : 91
3. مسند ابی عوانه، 2 : 39، رقم : 85
4. المعجم الکبير للطبرانی، 8 : 203، رقم : 9822)
’’بلاشبہ اﷲتعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے غرور و تکبر سچائی سے اِنحراف اور لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھنے کے مترادف ہے۔‘‘
قرآن حکیم نے گدھے کے ہنہنانے کی آواز کو مکروہ ترین قرار دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الحمِيْرo
(لقمان، 31 : 19)
’’بے شک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہےo‘‘
عمدہ آواز۔ جس میں ترنم اور نغمگی ہو۔ کی سماعت سے کیف و لذت حاصل کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اِسی بنا پر آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اﷲ تعالیٰ کے مقدس کلام قرآن حکیم کو خوبصورت آوازوں سے مزین کرکے پڑھنے کی ترغیب دی۔
ترنم اور حسن قرات کے ساتھ تلاوتِ قرآنِ حکیم کی ترغیب اس بات کا بین ثبوت ہے کہ شارع علیہ السلام کو خوش اِلحانی اور عمدہ آواز انتہائی پسند تھی، جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ عمدہ آواز، نغمگی، ترنم اور خوش اِلحانی۔ جس سے کان محظوظ ہوتے ہوں اور دل و دماغ پر کیف و سرور کا اثر ہوتا ہو۔ جائز ہے۔
اَز رُوئے عقل و منطق بھی یہ بات درست ہے کہ خوبصورت اور سریلی آواز سننا کوئی ناجائز کام نہیں۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق کے اعتبار سے ہر انسان کو اپنے گرد و پیش سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے حواس خمسہ۔ آنکھ، کان، ناک، زبان اورہاتھ۔ عطا کیے ہیں۔ ہر حاسہ کا ایک محدود دائرہ کار متعین فرمایا ہے، جو اپنی صلاحیت کے مطابق شعور و آگہی حاصل کرتا ہے۔ جس طرح حواس اپنے اپنے دائرہ کار میں چیزوں کا اِدراک کرتے ہیں اور یہ ادراک انہیں لذت آشنا بھی کرتا ہے، اسی طرح کان بھی عین فطرت کے مطابق ترنم اور خوش کن آوازوں سے لذت حاصل کرتے ہیں اور انسانی دل و دماغ پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے عطا کی ہوئی اچھی اور مترنم آواز مخلوق پر احسانِ عظیم ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ.
(فاطر، 35 : 1)
’’اور تخلیق میں جس قدر چاہتا ہے اِضافہ (اور توسیع) فرماتا رہتا ہے۔‘‘
مفسرین کرام نے اس آیت مبارکہ میں مَا يَشَآئُ سے مراد حواسِ خمسہ سے حاصل ہونے والی لذت لیا ہے، جس میں حسن صوت بھی شامل ہے۔ یہ بات حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما کے حوالے سے مفسرین نے بیان کی ہے۔ چنانچہ فرمایا :
﴿يَزِيْدُ فِی الْخَلْقِ مَا يَشَآءُ) قال : الصوت الحسن.
(1. سيوطی، الدر المنثور فی التفسير بالماثور، 8 : 260
2. شوکانی، فتح القدير، 6 : 126)
’’(اور تخلیق میں جس قدر چاہتا ہے اِضافہ (اور توسیع) فرماتا رہتا ہے) سے مراد اچھی آواز ہے۔‘‘
امام رازی نے ’’التفسیر الکبیر (2 : 445)‘‘ میں لکھا ہے :
ومنهم من قال الصوت الحسن.
’’اور بعض مفسرین نے اِس سے مراد عمدہ آواز لیا ہے۔‘‘
ابن کثیر نے بھی ’’تفسیر القرآن العظیم (6 : 532)‘‘ میں ابن جریح کے حوالے سے اس کا معنی حسن الصوت (عمدہ آواز) کیا ہے۔
تفسیر قرطبی، تفسیر بغوی، تفسیر ابن ابی حاتم، تفسیر بحر المحیط، تفسیر فتح القدیر، تفسیر اللباب، تفسیر خازن، تفسیر ثعالبی؛ الغرض اکثر مفسرین کرام نے يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ کا معنی عمدہ آواز کیا ہے، جبکہ اس کا معنی یہ بھی ہے کہ اﷲ تعالیٰ انسان کے ظاہری حواسِ خمسہ کی صلاحیتیں بڑھاتا رہتا ہے۔
اَنبیاء کرام علیہم السلام کی خوش آوازی
خوش آوازی اور ترنم کے ساتھ جائز کلام سننے کا جواز انبیاء کرام علیہم السلام کے خوش الحان ہونے سے بھی ثابت ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ما بعث اﷲ نبياً الا حسن الصوت.
(ابن عساکر، تاريخ دمشق الکبير، 4 : 6)
’’اﷲ تعالیٰ نے جو بھی نبی مبعوث فرمایا انہیں خوش آوازی عطا فرمائی۔‘‘
دیگر محدثین کرام بشمول حکیم ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’نوادر الاصول فی احادیث الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (3 : 33)‘‘ میں، ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے ’’عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری (19 : 176)‘‘ میں انبیاء علیہم السلام کے حسن الصوت کی روایت نقل کی ہے۔
جملہ انبیاء کرام علیہم السلام کو اﷲ رب العزت نے کسی نہ کسی خاص خوبی سے نوازا جو اُن کی خصوصیت قرار پائی۔ ان میں سیدنا داؤد علیہ السلام کو اﷲ رب العزت نے امتیازی خوبی لحن یعنی خوش آوازی عطا فرمائی جو رہتی دنیا تک ’’لحنِ داؤدی‘‘ کے نام سے زباں زدِ خاص و عام ہے۔ آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے فرمایا :
يَا أَبَا مُوسَی! لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ.
(1. صحيح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب حسن الصوت بالقراء ة بالقرآن، 4 : 1925، رقم : رقم : 4761
2. صحيح مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب استحباب تحسين الصوت بالقرآن، 1 : 546، رقم : 793)
’’اے ابو موسی! تحقیق تجھے آلِ داؤد علیہ السلام کی خوش اِلحانی میں سے حصہ عطا کیا گیا ہے۔‘‘
سیدنا داؤد علیہ السلام جب آپ اپنی مترنم آواز سے اﷲ کا ذکر کرتے تو پہاڑ آپ کے ساتھ ہم آواز ہو جاتے کیونکہ وہ داؤد علیہ السلام کی آواز کے زیر و بم کو سمجھتے تھے۔ اِس ضمن میں قرآن حکیم فرماتا ہے :
إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْرَاقِO وَالطَّيْرَ مَحْشُورَةً كُلٌّ لَّهُ أَوَّابٌO وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِO
(ص، 38 : 18 – 20)
’’بے شک ہم نے پہاڑوں کو اُن کے زیرِ فرمان کر دیا تھا، جو (اُن کے ساتھ مل کر) شام کو اور صبح کو تسبیح کیا کرتے تھےo اور پرندوں کو بھی جو (اُن کے پاس) جمع رہتے تھے، ہر ایک اُن کی طرف (اِطاعت کے لیے) رجوع کرنے والا تھاo اور ہم نے اُن کے ملک و سلطنت کو مضبوط کر دیا تھا اور ہم نے انہیں حکمت و دانائی اور فیصلہ کن اندازِ خطاب عطا کیا تھاo‘‘
محمد بن اسحاق کے مطابق حضرت داؤد علیہ السلام کی موسیقی بھری ترنم آفریں آواز جو وہ ذکرِ الٰہی کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کی مدح و ثنا میں بلند کرتے تو اس کو سن کر پہاڑ بھی ان کی آواز میں آواز ملا کر لقمہ ریز ہو جاتے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انہیں ایسی آواز سے نواز رکھا تھا جو دیگر تمام آوازوں پر برتری اور فوقیت رکھتی تھی۔ جب وہ اپنے شیریں ترنم سے زبور کی تلاوت کرتے تو جنگلی جانور ان کے اس قدر قریب آجاتے کہ وہ انہیں گردن سے پکڑ سکتے۔
(1. الجامع لأحکام القرآن للقرطبی، : 2105. التفسير الکبير للرازی، 26 : 186)
حضرت داؤد علیہ السلام کی شیریں اور دل کو موہ لینے والی آواز عطیہ خداوندی تھا، جس سے یہ بات بغیر کسی شک و شبہ کے ثابت ہو جاتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی مدح سرائی میں اچھی آواز کا استعمال اَجر و ثواب اور انعام کا باعث ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ روزِ قیامت اﷲ تعالیٰ حضرت داؤد علیہ السلام کو حکم دے گا کہ اسی خوش الحانی کے ساتھ اہل محشر کے سامنے میری تقدیس بیان کرو، جیسے دنیا میں تم تورات کی تلاوت کرتے تھے۔
اس میں کوئی حرج نہیں کہ پر مسرت مواقع پر مترنم آوازوں کی مہارت اور ہنر کا استعمال عمل میں لایا جائے۔ اس بات کی تائید احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی ہوتی ہے۔ روایت اس طرح ہے کہ ربیع بنت معاوض بن عرفہ بیان کرتی ہیں :
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری شادی کے موقع پر تشریف لائے اور دوسرے اَعزاء و اَقارب کی طرح میرے بستر پر فروکش ہوگئے۔ اتنے میں ہماری انصار بہنیں دف پر کوئی گیت گانے لگیں، وہ شہدائے بدر کی تعریف میں نغمہ سرا تھیں۔ جب ہم میں سے ایک لڑکی کی نظر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑی تو وہ آپ کے لیے مدح سرا ہوگئی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے روکا اور فرمایا کہ وہ وہی گیت جاری رکھیں جو وہ گارہی تھیں۔‘‘
(صحيح بخاری، کتاب المغازی، باب شهود الملائکة بدرا، 4 : 1469، رقم : 3779)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
أَعْلِنُوا هَذَا النِّکَاحَ وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ.
(1. جامع الترمذی، ابواب النکاح، باب ما جاء فی اعلان النکاح، 3 : 398، رقم : 1089
2. السنن الکبری للبيهقی، 7 : 290، رقم : 14476
3. الفردوس بماثور الخطاب للديلمی، 1 : 101، رقم : 335)
’’نکاح کی تشہیر کرو، مسجدوں میں نکاح کرو اور ان مواقع پر دَف بجایا کرو۔‘‘
حلال و حرام میں فرق ہی نغمۂ مسرت اور دف بجانے سے ہے
دَف بجانے اورشادی کے خوب صورت گیتوں کے ذریعے نکاح کے کھلے عام اِعلان سے حلال اور حرام کا فرق واضح ہوتا ہے۔ محمد بن حاطب روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’حلال اور حرام نکاح کے مابین فرق آواز کا ہے یعنی (حلال نکاح کا اِعلان) دف بجا کر کیا جاتا ہے (جب کہ حرام چوری چھپے اور خاموشی سے کیا جاتا ہے)۔‘‘
(1. مصنف ابن ابی شيبه، 3 : 2945. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، 2 : 201، رقم : 32750. السنن الکبری للبيهقی، 7 : 289، رقم : 414471. المعجم الکبير للطبرانی، 19 : 242، رقم : 542)
بعض کم علم لوگ شادی اتنی خاموشی سے کرتے ہیں کہ نہ دَف کی آواز اور نہ نغماتِ مسرت؛ اور اسے نیکی اور پرہیزگاری سمجھتے ہیں، حالاں کہ نیکی اور پرہیزگاری حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ماننے میں ہے نہ کہ ترک کرنے میں۔ شادی کے موقع پر مکمل خاموشی اختیار کرتے ہوئے یہ رسم سرانجام دینا سنت کی خلاف ورزی کے مترادف ہے کیونکہ سنتِ نبوی نے جائز شادی اور بدکاری کے درمیان حدِ فاصل کھینچ دی ہے۔ اس قانونی شق نے اس نکتے کو بڑی صراحت سے واضح کردیا ہے کہ شادی کا اِعلانِ عام کیا جائے تاکہ لوگ یہ بات بخوبی جان سکیں کہ فلاں مرد اور فلاں عورت کا ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ خاوند اور بیوی کا ہے۔ اِس مقصد کو شادی کے گیت گانے اور دَف بجانے کے معروف طریقے سے اچھی طرح حاصل کیا جاتا ہے۔ مزید برآں خوشی اور شادمانی کے ایسے مواقع پر اعلان کرنا اِظہارِ مسرت کا فطری طریقہ ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا روایت کرتی ہیں کہ ایک عورت کی انصاری مرد سے شادی ہوگئی۔ اس مو قع پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شادی کے گیت گانے کے بارے میں دریافت فرمایا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے مروی حدیث مبارکہ کے الفاظ اس طرح ہیں :
کان في حجري جارية من الأنصار، فزوجتها. قالت : فدخل علي رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم يوم عرسها، فلم يسمع غناء ولا لعبا. فقال : يا عائشة! هل غنيتم عليها أو لا تغنون عليها؟ ثم قال : إن هذا الحي من الأنصار يحبون الغناء.
1. صحيح ابن حبان، 13 : 18.
2. موارد الظمآن للهيثمی، 1 : 494، رقم : 2016
’’میرے پاس ایک انصاری لڑکی رہا کرتی تھی، میں نے اس کی شادی کروائی۔ وہ فرما تی ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس کی شادی کے روز میرے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی نغمہ سنا نہ کوئی تفریح دیکھی۔ اِس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : اے عائشہ! تم اس کے لیے شادی کے گیت کا اہتمام کر چکے ہو؟۔ یا فرمایا : کیا تم اس کے لیے شادی کے گیت کا اہتمام نہیںکرو گے؟۔ پھر فرمایا : یہ اَنصاری قبیلہ ایسے مواقع پر ترنم کے ساتھ کلام سننا پسند کرتا ہے۔‘‘
حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما روایت کرتے ہیں :
أَنْکَحَتْ عَائِشَةُ ذَاتَ قَرَابَةٍ لَهَا مِنْ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ : أَهْدَيْتُمْ الْفَتَاةَ. قَالُوا : نَعَمْ. قَالَ : أَرْسَلْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغَنِّي؟ قَالَتْ : لَا. فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ، فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ : أَتَيْنَاکُمْ أَتَيْنَاکُمْ، فَحَيَانَا وَحَيَاکُمْ.
1. سنن ابن ماجه، کتاب النکاح، باب الغناء والدف، 1 : 612، رقم : 1900
2. السنن الکبری للنسائی، 3 : 332، رقم : 5566
3. السنن الکبری للبيهقی، 7 : 289، رقم : 14468
4. المعجم الاوسط للطبرانی، 3 : 135، رقم : 3265
’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا نے اپنے قریبی ایک انصاری لڑکی کی شادی کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا : کیا تم نے دلہن کو تیار کرلیا ہے؟ انہوں نے اس کا اثبات میں جواب دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید دریافت فرمایا : کیا تم نے شادی کا گیت سنانے کے لیے کسی کا بندوبست کیا ہے؟ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا نے نفی میں جواب دیا، تو اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ جملہ ارشاد فرمایا : اَنصار لوگ ترنم کے ساتھ کلام سننا پسند کرتے ہیں، بہتر ہے کہ تم کسی خوش آواز کا انتظام کرو جو یہ کہے کہ ’’ہم آپ کے پاس آئے ہیں، ہم آپ کے پاس آئے ہیں، اﷲ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو عمر دراز عطا فرمائے۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کا عمل
حضرت عامر بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
دَخَلْتُ عَلَی قُرَظَةَ بْنِ کَعْبٍ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ فِي عُرْسٍ وَإِذَا جَوَارٍ يُغَنِّينَ، فَقُلْتُ : أَنْتُمَا صَاحِبَا رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم وَمِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، يُفْعَلُ هَذَا عِنْدَکُمْ؟ فَقَالَ : اجْلِسْ إِنْ شِئْتَ فَاسْمَعْ مَعَنَا، وَإِنْ شِئْتَ اذْهَبْ، قَدْ رُخِّصَ لَنَا فِي اﷲ وِعِنْدَ الْعُرْسِ.
1. سنن نسائی، کتاب النکاح، باب اللهو والغناء عند العرس، 6 : 135، رقم : 3383
2. السنن الکبریٰ للنسائی، 3 : 332، رقم : 5566
3. حاکم، المستدرک علی الصحيحين، ج : 2، ص : 201، رقم : 2752
4. سنن النسائی، باب اللهو عند الغناء والعرس، 6 : 135، رقم : 3383)
’’میں، قرظہ بن کعب اور حضرت ابومسعود انصاری کے پاس ایک شادی میں حاضر ہوا جہاں اتفاقاً بچیاں ترنم کے ساتھ شادی کا نغمہ سنا رہی تھیں۔ میں نے حیرت سے کہا : تم دونوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اَصحاب اور اہلِ بدر میں شامل ہو اور تمہاری موجودگی میں یہ کام ہو رہا ہے! وہ دونوں صحابہ فرمانے لگے : اگر تمہارا جی چاہے تو تم ہمارے ساتھ بیٹھ کر سنو وگرنہ چلے جاؤ، ہمیں شادی میں تفریح کی رخصت دی گئی ہے (کیونکہ شادی ایک خوشی ہے اور اس میں مباح تفریح کی اجازت ہے)۔‘‘
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ایک اور حدیث میں وہ بیان فرماتی ہیں :
دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثَ، فَاضْطَجَعَ عَلَی الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ. وَدَخَلَ أَبُو بَکْرٍ، فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ : مِزْمَارَةُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم؟ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ : دَعْهُمَا، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا. وَکَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ. فَإِمَّا سَأَلْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم وَإِمَّا قَالَ : تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ. فَأَقَامَنِي وَرَائَهُ خَدِّي عَلَی خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ : دُونَکُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ حَتَّی إِذَا مَلِلْتُ. قَالَ : حَسْبُکِ. قُلْتُ : نَعَمْ. قَالَ : فَاذْهَبِي.
1. صحيح بخاري، کتاب العيدين، باب الحراق و الدرق يوم العيد، 1 : 323، رقم : 907
2. صحيح بخاری، کتاب الجهاد والسير، باب الدرق، 3 : 1064، رقم : 2750
3. صحيح مسلم، کتاب صلاة العيدين، باب الرخصة في اللعب لا معصية فيه، 2 : 609، رقم : 892
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے پاس دو لڑکیاں جنگ بعاث (دو انصاری قبیلوں خزرج اور اَوس کے درمیان زمانۂ جاہلیت کی رزمیہ کہانی) کے ترانے گا رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بستر پر لیٹ گئے اور منہ پھیر لیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے مجھے ڈانٹا اور فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شیطانی باجہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا : انہیں کرنے دو۔ جب ان کی توجہ ہٹ گئی تو میں نے لڑکیوں کو چلے جانے کا اشارہ کیا۔ یہ حبشیوں کی عید کا دن تھا جو ڈھالوں اور برچھیوں سے تفریح دکھاتے تھے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا یا آپ نے خود فرمایا : تم دیکھنا چاہتی ہو؟ میں عرض گزار ہوئی : جی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا اور میرا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسار پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے : اے بنی ارفدہ! اور دکھاؤ۔ یہاں تک کہ جب میں اُکتا گئی تو مجھ سے فرمایا : بس؟ عرض کی : جی۔ فرمایا : تو پھر جاؤ۔‘‘
ترنم اور نغمگی کے بارے میں اَقوالِ سلف
اقوال سلف سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ ترنم کے ساتھ موزوں کلام کا پڑھنا جائز ہے۔
امام ابو نصر سراج طوسی نے کتاب اللُّمع میں عمدہ آواز کے بارے میں لکھا ہے :
حکماء نے عمدہ آواز اور اچھے نغموں کی خوبیوں کے متعلق بحث کی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے بہت کچھ کہا ہے۔ حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سے عمدہ آواز کے متعلق سوال کیا گیا تو اُنہوں نے فرمایا : ’’یہ ایسے مخاطبات اور حق کی طرف اشارے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہر پاکیزہ مرد اور عورت کے اندر ودیعت کررکھا ہے۔‘‘
یحی بن معاذ رازی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہو اس کے لئے عمدہ آواز ہوا کا ایک جھونکا ہے۔
ایک اور معروف قول ہے : عمدہ نغمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک جھونکا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ ان دلو علیہ السلام کے لیے چلاتا ہے جو اللہ کی آگ میں جل رہے ہوں۔
میں نے احمد بن علی وجیہی کو سنا، وہ فرماتے تھے : میں نے ابو علی رودباری کو سنا کہ ابو عبداللہ الحارث بن اسد محاربی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے : ’’تین چیزیں ایسی ہیں کہ جب وہ حاصل ہوجائیں تو ان سے فائدہ ہوتا ہے، مگر وہ تینوں ہم میں مفقود ہیں : (1) دین داری کے ہوتے ہوئے عمدہ آواز، (2) اپنے آپ کو بچاتے ہوئے خوبصورت چہرہ اور (3) وفاداری کے ساتھ اچھی دوستی۔‘‘
بندار بن حسین رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت مروی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : ’’عمدہ آواز ایسی حکمت ہے جو بات کا جواب دیتی ہے، اور یہ ایک سلیم آلہ ہے جو رسیلی آواز اور لطیف زبان سے ادا کی جاتی ہے، اور یہ صاحبِ قوت اور صاحبِ علم اللہ تعالیٰ کے اندازے ہیں جو اُس نے مقرر کر رکھے ہیں۔ ایک اور لطیف بات جو اللہ تعالیٰ نے عمدہ آواز میں ودیعت کر رکھی ہے یہ ہے کہ جب کوئی بچہ درد کی وجہ سے اپنے بستر میں روتا ہے اور پھر وہ اچھی آواز سنتا ہے تو وہ چپ ہوجاتا ہے اور سو جاتا ہے۔
یہ بھی مشہور ہے کہ پہلے زمانے کے لوگ سوداوی مرض کے مریض کا علاج عمدہ آواز سے کیا کرتے تھے اور مریض صحت یاب ہو جاتا تھا۔
امام قشیری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی معروف کتاب الرسالۃ القشیریۃ میں لکھا ہے :
جان لو کہ عمدہ اِلحان اور پرذوق نغمگی کے ساتھ اَشعار کا سننا جائز ہے، بشرطیکہ سننے والا کسی ممنوع چیز کا معتقد نہ ہو اور کوئی ایسی بات نہ سنتا ہو جو شرعاً مذموم ہو اور نہ وہ اپنی خواہشات کی رَو میں بہہ جاتا ہو اور فضول چیز کی طرف بھی مائل نہ ہو۔
اس بات میں کسی قسم کا اختلاف نہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے شعر پڑھے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان اَشعار کی سماعت فرمائی اور پڑھنے پر کوئی اِعتراض نہیں کیا۔ جب عمدہ اِلحان کے بغیر اَشعار کا سننا جائز قرار دیا ہے تو عمدہ اِلحان کے ساتھ سننے سے اس کے حکم میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ یہ تو ظاہری حال ہے، مزید برآں وہ اِلحان جو سننے والے کو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کی بھرپور رغبت دلائیں اور اسے یاد دلائیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے متقی بندوں کے لیے کیا کیا درجات مہیا کر رکھے ہیں اور اسے لغزشوں سے بچنے پر مجبور کریں اور اس کے دل پر نیک و پاک واردات کا موجب بنیں، وہ دین میں مستحب سمجھے جاتے ہیں اور شرع میں پسندیدہ کہلاتے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ میں ایسا کلام آیا ہے جو شعر کے قریب قریب ہے۔ اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارادہ یہ نہ تھا کہ وہ کلام شعر بن جائے۔ حمید سے روایت ہے : میں نے اَنس رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ انصار خندق کھود رہے تھے اور شعر پڑھتے جاتے تھے :
’’ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس پر زندگی بھر کے لیے جہاد کی بیعت کی۔‘‘
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں کہا :
اللّٰهم! لا عيش إلا عيش الآخرة
فاکرم الأنصار والمهاجرة
’’خدایا! آخرت کی زندگی کے سوا کوئی زندگی نہیں، لہٰذا تو اَنصار اور مہاجرین کو عزت بخش۔‘‘
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ الفاظ شعر تو نہیں مگر قریب قریب ضرور ہیں۔
سلف اور اَکابر نے اِلحان کے ساتھ شعر سنے ہیں۔ سلف میں سے جنہوں نے اس کو جائز قرار دیا ہے، ان میں مالک بن انس بھی ہیں اور اہل حجاز تو سب کے سب دف کے ساتھ کلام پڑھنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ حدی کے جائز ہونے پر بھی سب کا اتفاق ہے۔ اس کے متعلق احادیث اور آثار کثرت سے آئے ہیں۔
ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنھم میں سے حضرت عبد اللہ بن زبیر، مغیرہ بن شعبہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنھم اور دیگر بہت سے نیک اسلاف، جن میں تابعین بھی شامل ہیں، نے سماع کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں : ہمارے ہاں مکہ مکرمہ میں سال کے اَفضل دنوں میں اہل حجاز سماع سنتے چلے آئے ہیں۔ یہ وہ ایام معدودہ ہیں جن میں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو اپنے ذکر کا حکم دیا ہے، جیسے ایام تشریق (عیدالاضحی کے بعد تین دنوں) میں۔ اہل مکہ کی طرح اہل مدینہ بھی آج تک سماع سنتے چلے آرہے ہیں۔
ابو طالب مکی رحمۃ اللہ علیہ کا ہی قول ہے کہ حضرت ابوالحسن بن سالم رحمۃ اللہ علیہ سے کہا گیا : آپ سماع کا انکار کیسے کرتے ہیں حالاں کہ حضرت جنید بغدادی، حضرت سقطی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت ذوالنون مصری رحمۃ اللہ علیہ سنتے تھے؟ انہوں نے فرمایا : میں اس کا انکار کیسے کر سکتا ہوں جب کہ مجھ سے بہتر شخصیت نے اسے سنا اور اس کی اجازت دی!
ابوالحسن عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ۔ جو اولیاء کرام میں سے تھے۔ قوالی سنتے اور بے ہوش ہوجاتے تھے۔ انہوں نے اس کے بارے میں ایک کتاب لکھی اور اس میں منکرینِ سماع کا ردّ کیا ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : شعر ایک کلام ہے اس میں اچھا، اچھا ہے اور قبیح برا ہے۔
حضرت یونس بن عبدالاعلیٰ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں نے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا کہ اہلِ مدینہ سماع کو جائز سمجھتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا : میں علمائے حجاز میں سے کسی کو نہیں جانتا جس نے سماع کو مکروہ سمجھا ہو مگر جو اَوصاف کسی کے اَعضا کے اَوصاف کے بارے میں ہوں۔ لیکن حدی اونٹوں کے ساتھ چلتے ہوئے اَشعار پڑھنا، منزلوں اور ان کے آثار سے متعلق اَشعار اور اچھی آواز میں ترنم کے ساتھ اَشعار پڑھنا مباح ہے۔
فقہی مذاہب کی روشنی میں نغمگی کا تصور
یہ بات ذہن نشین رہے کہ فقہی مذاہب کتاب و سنت کے مدمقابل کوئی ایسا اَمر شرعی نہیں کہ جس سے قرآن و حدیث کی طرح اَحکام مستنبط ہوتے ہوں، ایسا سوچنا بھی باطل اور جہالت پر مبنی نظریہ ہے۔ فقہی مذاہب دراصل کتاب و سنت کی تشریح و تعبیر ہوتے ہیں یعنی کوئی مسئلہ جو قرآن مجید میں بیان ہوا ہو اور اس بارے میں احادیث مبارکہ وارد ہوں بعد ازاں فقہائے کرام نے ان نصوص شرعیہ کی روشنی سے جو سمجھا ہو وہ ان کا مسلک و مذہب قرار پاتا ہے۔ پس فقہی مذاہب شرعی نصوص کو سمجھنے کا بہترین ذریعہ ہیں اور یہ ایسا فہم و ادراک ہے، جسے مسلمانوں نے ہر زمانے میں صحیح طریقے سے قبول کیا اور اس کی اتباع کی۔ تاریخ اسلام میں اسلامی فقہ کی تدوین و تخریج میں چار عظیم فقہائے کرام “حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اﷲ” کا کردار نمایاں ہے۔
یاد رہے کہ جب ہم غناء سے متعلق فقہاء کے اَقوال کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس غناء سے مراد ایسا غناء ہے، جس میں آواز کی خوب صورتی، ترنم اور نغمگی ہوتی ہے اور یہ غناء اس موسیقی کے بغیر ہوتا ہے جس سے شریعت نے منع کیا ہے۔
ذیل میں ہم معروف اور متداول فقہی مذاہب کے تصورِ غناء کو بیان کریں گے :
فقہائے اَحناف کا مؤقف
اَحناف کے نزدیک ایسا غناء جو بغیر کسی مناسبت کے لہو و لعب کی غرض سے ہو بالاتفاق حرام ہے۔ جب کہ ایسا غناء جس کا تعلق تقریبات جیسے عرس اور عیدوں کی تقریبات سے ہو تو بعض فقہاء کے ہاں یہ مباح ہے جبکہ بعض کے ہاں مکروہ تنزیہی ہے۔ گویا کہ اس صورت میں فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یہ گناہ نہیں ہے۔ جہاں تک ایسے غناء کا تعلق ہے جو زبان کی فصاحت و بلاغت اور قوافی سے استفادہ کی غرض سے ہو تو یہ بغیر کسی کراہت کے مباح ہے اور جو غنا اپنے نفس کی وحشت و تنہائی دور کرنے کے لئے ہو، کچھ نے اسے مباح اور کچھ نے مکروہ جبکہ بعض نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ گویا کہ ائمہ نے ایسے غناء کو بھی بالاتفاق حرام نہیں کہا۔
1۔ امام سرخسی
فقہاء احناف کے نزدیک ایسا غناء حرام ہے، جو کسی موقع و مناسبت کی بجائے محض لہو و لعب کی غرض سے ہو۔ شمس الائمہ امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
ولا تجوز الاجارة علی تعليم الغناء والنوح لأن ذلک معصية.
(سرخسی، المبسوط، 16 : 41)
’’غناء سکھانے کے لئے اجرت لینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ معصیت کے زمرے میں آتا ہے۔‘‘
2۔ علامہ شامی
وہ غناء جس کا اہتمام تقریبات اور عرسوں کے موقع پر کیا جائے، کچھ فقہاء نے اسے مباح قرار دیا ہے، جب کہ بعض فقہائے کرام اسے مکروہ قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں :
اعلم أن التغني الاسماع الغير وإيناسه حرام، ومنهم جوزه في العرس والوليمة، وقيل : إن کان يتغني ليستفيد به نظم القوافي وفصاحة اللسان فلا بأس، أما التغني لإسماع نفسه قيل لا يکره، وبه أخذ شمس الإئمة، لما روي ذلک عن أزهد الصحابة، البراء بن عازب رضي اﷲ عنه، والمکروه علي ما يکون علي سبيل اللهو. ومن المشايخ، من قال : ذلک يکره. وبه أخذ شيخ الإسلام بزازية.
(ابن عابدين، حاشيه رد المحتار علي در المختار، 5 : 482)
’’جان لیجیے کہ غناء دوسرے شخص کو سنانے اور اسے مانوس کرنے کے لیے حرام ہے اور کچھ فقہاء نے اسے عرس اور ولیمہ جیسی تقریبات میں جائز قرار دیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اگر غناء سے مقصود قوافی اور زبان کی فصاحت و بلاغت سے استفادہ ہو تو کوئی حرج نہیں۔ اور جہاں تک ایسے غناء کا تعلق ہے جو اپنے آپ کو سنانے کے لیے ہو تو اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ مکروہ نہیں ہے اور اس قول کو شمس الائمہ نے اختیار کیا ہے اور یہ قول بڑے بڑے متقی صحابہ کرام جیسے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ اور جو غناء لہو و لعب کے زمرے میں آتا ہو وہ مکروہ ہے، اور یہ موقف شیخ الاسلام بزازیہ نے بھی اختیار کیا ہے۔‘‘
بعض فقہاء احناف نے ایسا غناء جس کا مقصد اپنے نفس کی وحشت و تنہائی ختم کرنا ہو کو مباح قرار دیا ہے۔ علامہ ابن عابدین نے اس بارے میں لکھا ہے :
وقيل : إن تغنی وحده للوحشة، لا بأس به، وبه أخذ السرخسی، وذکر شيخ الاسلام أن کل ذلک مکروه عند علمائنا.
(ابن عابدين، رد المحتار علی در المختار، 6 : 348)
’’کہا گیا ہے کہ اگر اپنی تنہائی و وحشت کو ختم کرنے کے لیے غناء ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ موقف امام سرخسی کا ہے۔ اور شیخ الاسلام نے کہا ہے کہ تمام قسم کا غناء ہمارے علماء کے ہاں مکروہ ہے۔‘‘
فقہ مالکی میں غناء سے متعلق موقف
مذہب مالکی میں غناء کے بارے میں بہت زیادہ شدت نہیں پائی جاتی۔ علامہ عز بن عبدالسلام کا شمار اَجل مالکی ائمہ میں ہوتا ہے، ان کے علم اور دین کے تدبر اور سوجھ بوجھ کے بارے میں مالکی فقہاء کا اس حد تک اتفاق ہے کہ وہ کہتے ہیں :
لا ينعقد إجماع بدونه.
’’ان کے بغیر اجماع متحقق نہیں ہوتا۔‘‘
علامہ عز بن عبدالسلام کہتے ہیں : اصلاح قلوب خارجی عوامل کے ذریعہ ممکن ہے، ان عوامل میں قرآن مجید، وعظ و تذکیر، حدی خوانی اور ترانے شامل ہیں۔ (عبدری المالکی، التاج والاکلیل، 2 : 62)
دوران سفر حدی خوانی مالکیہ کے نزدیک مباح ہے۔ چنانچہ ابن عبد البر بیان کرتے ہیں :
وأما قوله في حديث مالک : فرفع بلال عقيرته، فمعناه رفع بالشعر صوته کالمتغني به ترنما، وأکثر ما تقول العرب : رفع عقيرته، لمن رفع بالغناء صوته، وفي هذا الحديث دليل علي أن رفع الصوت بإنشاد الشعر مباح، ألا تري أن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم لم ينکر علي بلال رفع عقيرته بالشعر، وکان بلال قد حمله علي ذلک شدة تشوقه إلي وطنه، فجري في ذلک علي عادته، فلم ينکر رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، وهذا الباب من الغناء قد أجازه العلماء، ووردت الآثار عن السلف بإجازته، وهو يسمي غناء الرکبان، وغناء النصب والحداء، وهذه الأوجه من الغناء لا خلاف في جوازها بين العلماء.
(ابن عبدالبر، التمهيد، 22 : 196، 197)
’’جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے جو حدیث مالک سے متعلق ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی آواز بلند کی۔ اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے شعر پڑھتے ہوئے اپنی آواز بلند کی، جیسے کوئی ترنم کے ساتھ کلام پڑھتا ہے، اہل عرب اس شخص کے بارے میں کہتے ہیں جو اپنی آواز کو ترنم کے ساتھ بلند کرتا ہے۔ اس حدیث میں یہ دلیل پائی جاتی ہے کہ شعر پڑھتے ہوئے آواز بلند کرنا جائز ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو شعر پڑھتے ہوئے ترنم کے ساتھ آواز بلند کرنے سے منع نہیں کیا اور اس بنیاد پر علماء نے غناء کو جائز قرار دیا ہے اور سلف صالحین کے اقوال بھی اس موقف کی تائید میں وارد ہوئے ہیں اور اس طرح کے غناء کو غناء رکبان، غناء نشیب اور غناء حداء کا نام دیا گیا ہے، اور غناء کی ان مختلف صورتوں کو جائز قرار دیا گیا ہے۔‘‘
فقہ شافعی میں غناء کا تصور
غناء کے بارے میں شوافع کا موقف یہ ہے کہ غناء بغیر آلہ موسیقی کے حرام نہیں ہے۔ پس یہ بھی اس کی مطلقاً اباحت کے قائل ہیں اور کبھی کبھی اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔ ائمہ شوافع میں سے خطیب شربینی فرماتے ہیں :
مع أن التحقيق : أن الغناء ليس محرما مطلقا، وإنما المحرم إذا کان بآلة في الهيئة الاجتماعية.
(خطيب شربينی، مغنی المحتاج، 2 : 111)
’’یقینا غناء مطلقاً حرام نہیں ہے اور غناء اس صورت میں حرام ہوگا جب وہ آلہ موسیقی کے ساتھ اجتماعی صورت میں کسی تقریب میں ہو۔‘‘
اس طرح انہوں نے ایک دوسرے مقام پر کہا ہے :
ويکره الغناء وهو بالمد، وقد يقصر، وبکسر المعجمة : رفع الصوت بالشعر، لقوله سبحانه تعالي ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الحَدِيثِ) [لقمان، 31 : 6] قال ابن مسعود : هو واﷲ الغناء. رواه الحاکم، ورواه البيهقي، عن ابن عباس وجماعة من التابعين، هذا إذا کان بلا آلة من الملاهي المحرمة، ويکره سماعه.
(خطيب شربيني، مغني الحتاج، 4 : 428)
’’غناء مکروہ ہے اس حالت میں جب وہ آواز کو کھینچ کر کیا جائے اور شعر کو بلند آواز سے پڑھنا ترنم کے ساتھ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بے ہودہ کلام خریدتے ہیں۔‘‘ تو اس حوالے سے ابن مسعودص نے کہا : خدا کی قسم! اس سے مراد غناء ہے۔ امام حاکم اور بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور ابن عباس اور دیگر تابعین سے روایت ہے کہ آلہ موسیقی کے ساتھ غناء حرام ہے اور آلہ موسیقی کے بغیر اس کی سماعت شدید مکروہ ہے۔‘‘
بعض شوافع کے نزدیک غناء مکروہ ہے۔ فقہاء شوافع میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے غناء کو مباح قرار دیا ہے، بشرطیکہ کلام ایسا نہ ہو جو معصیت کی طرف لے جاتا ہے، جیسے شعر اور عام عادت سے ہٹ کر کلام ہو۔ جن فقہاء نے یہ موقف اختیار کیا ہے ان میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں :
نظم الشعر، وإنشاده، وسماعه، بألحان، وغير ألحان، ليس بحرام، إلا أن يکون في الشعر هجو، أو وصف امرأة معينة أو فحش، وما يحرم نثره فيحرم نظمه، فإن الشعر کلام، حسنه حسن، وقبيحه قبيح، وقد أُنشد عند رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم أشعار ولم ينکرها.
وإن أطنب في المدح، حتي انتهي إلي حد الکذب، قيل : إنه حرام، والصحيح : أن ذلک ليس بکذب، إذ ذلک ليس يقصد منه الاعتقاد والتصديق، بل هو إظهار صنعة في الکلام، وسماع الغناء مباح، لأن ما جاز اللحن، جاز مع ألحان، إلا أن يتخذ ذلک عادة.
(غزالي، الوسيط، 7 : 351)
’’شعر کو ترنم کے ساتھ یا بغیر ترنم کے پڑھنا اور سننا حرام نہیں ہے مگر یہ کہ اس شعر میں ہجو ہو یا اس میں کسی عورت کی صفات بیان کی گئی ہوں یا فحش کلام پر مبنی ہو تو اس صورت میں وہ حرام ہوگا۔ اور جس کلام کو نثر میں بیان کرنا حرام ہو وہ بصورتِ شعر بھی حرام ہے۔ پس شعر کلام ہے، اگر اچھا کلام ہے تو اچھا ہے اور اگر کلام قبیح ہے تو شعر بھی قبیح ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اَشعار پڑھے گئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں روکا۔ اگر کوئی شخص مدح سرائی میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ وہ کذب بیانی کی حدوں کو چھونے لگا تو اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ حرام ہے۔ اور درست بات یہ ہے کہ غناء پر جھوٹ کا حکم نہیں لگتا کیونکہ غنا کا مقصد عقیدہ وایمان کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ کلام کے ذریعہ فن کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ اور غناء کی سماعت مباح عمل ہے کیونکہ جس کلام کا پڑھنا جائز ہے اسے خوبصورت آواز کے ساتھ پڑھنا بھی درست ہے لیکن یہ بات پیش نظر رہے کہ اسے بطورِ پیشہ اختیار نہ کیا جائے۔‘‘
اسی طرح امام غزالی کے نزدیک غناء کا شمار کبھی طاعت میں ہوتا ہے تو کبھی یہی غناء معصیت کے زمرے میں آتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے غناء کو محض ایک وسیلہ شمار کیا ہے اور اس کا فی نفسہ کوئی حکم نہیں ہے بلکہ اس کے حکم کا تعین غناء کے استعمال پر ہوتا ہے۔ پس حقیقت میں یہ فی نفسہ مباح عمل ہے اور اس کو معصیت یا طاعت کے زمرے میں لانے کا سبب غناء کا استعمال ہے۔
حاشیۃ البیجرمی میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے :
قال الغزالي : الغناء إن قصد به ترويح القلب علي الطاعة، فهو طاعة، أو علي المعصية، فهو معصية، أو لم يقصد به شيء فهو لهو معفو عنه.
(بيجرمي، حاشيه، 4 : 375)
’’امام غزالی فرماتے ہیں : ’’اگر غناء سے مقصود دل کو طاعت کی طرف مائل کرنا ہے تو اس طرح کے غناء کو طاعت کے زمرے میں شمار کیا جائے گا اور اگر دل اس غناء سے معصیت کی طرف مائل ہوتا ہے تو ایسا غناء معصیت کے ضمن میں شمار ہو گا، اور اگر اس غناء سے کچھ بھی مقصود نہیں تو اس صورت میں یہ لہو و لعب کا ایسا عمل ہے جو معاف ہے۔‘‘
فقہاء حنابلہ کا مؤقف
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک غناء مکروہ ہے جب کہ دیگرفقہاء حنابلہ غناء کے حرمت اور اباحت کے مابین متردد ہیں۔ تاہم حدی خوانی حنابلہ کے نزدیک مطلقاً مباح ہے۔
ابن قدامہ سے منقول ہے کہ احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ مجھے غناء پسند نہیں ہے کیونکہ یہ دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔ مزید لکھتے ہیں :
واختلف أصحابنا فيه، فذهب طائفة غلی حرمته، لأنه يروي عن ابن عباس، وابن مسعود، عن النبي صلی الله عليه وآله وسلم أنه قال : ’’الغناء ينبت النفاق في القلب.‘‘
وذهب أبو بکر والخلال إلي إباحته مع الکراهة، وهو قول القاضي، لأن عائشة رضي اﷲ عنها قالت : ’’کانت عندي جاريتان تغنيان، فدخل أبو بکر فقال : مزمور الشيطان في بيت رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم؟ فقال رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : ’’دعهما فإنها أيام عيد‘‘. قال أبو بکر : الغناء والنوح واحد، مباح ما لم يکن فيه منکر، ولا فيه طعن.‘‘
(ابن قدامه، الکافي، 4 : 526)
’’ہمارے اَصحاب نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے۔ پس کچھ نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور ان کی دلیل وہ روایت ہے، جسے ابن عباس اور ابن مسعود نے روایت کیا ہے۔ اور وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : غناء دل میں نفاق کو جنم دیتا ہے۔
’’اور ابوبکر اور خلال نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ عمل کراہت کے ساتھ مباح ہے اور یہی موقف القاضی کا ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں : ’’میرے پاس دو بچیاں خوبصورت آواز میں کلام پڑھ رہی تھیں، پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا : بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شیطان کا مزمار ہے؟ پس اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انہیں (پڑھنے) دو کیونکہ یہ ان کی خوشیوں کا دن ہے۔ اور ابوبکر بن عبدالعزیز کا موقف ہے کہ غناء اور نوح ایک ہی چیز ہے اور یہ دونوں مباح ہیں بشرطیکہ اس میں کوئی بری چیز نہ ہو۔‘‘
ابن قدامہ اپنی کتاب ’’المغنی‘‘ میں لکھتے ہیں :
واختلف أصحابنا في الغناء، فذهب أبو بکر الخلال، وصاحبه أبو بکر عبد العزيز إلي إباحته، وقال أبو بکر عبد العزيز : الغناء والنوح معني واحد مباح، ما لم يکن معه منکر، ولا فيه طعن، وکان الخلال يحمل الکراهة من أحمد علي الأفعال المذمومة، لا علي القول بعينه.
(ابن قدامه، المغني، 10 : 174)
’’ہمارے اَصحاب کے مابین غناء کے مسئلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابوبکر الخلال اور ابوبکر عبدالعزیز کا موقف ہے کہ یہ مباح ہے۔ ابوبکر عبدالعزیز کہتے ہیں کہ غناء اور ’’نوح‘‘ ہم معنی الفاظ ہیں اور یہ مباح ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ کوئی بری چیز شامل نہ ہو اور ابوبکر خلال نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے غناء میں کراہت کا احتمال مذموم اَفعال کی وجہ سے بیان کیا ہے نہ کہ محض کلام پڑھنے کی وجہ سے۔‘‘
مزید برآں ابن قدامہ لکھتے ہیں :
وممن ذهب إلی إباحته کراهة، سعد بن إبراهيم، وکثير من أهل المدينة، والعنبري.
(ابن قدامة، المغني، 10 : 174)
’’جن فقہاء نے اباحت کا موقف اختیار کیا ہے ان میں سعد بن ابراہیم اور اہل مدینہ کے اکثر علماء ہیں۔‘‘
احادیث غناء کے ذکر کے بعد پھر لکھتے ہیں :
واختار القاضي أنه محرم، وهو قول الشافعي، قال : هو من اللهو المکروه، وقال أحمد : الغناء ينبت النفاق في القلب، لا يعجبني.
(ابن قدامة، المغني، 10 : 174)
’’قاضی نے ’’حرام‘‘ ہونے کا موقف اختیار کیا ہے اور یہی امام شافعی کا قول ہے اور کہا ہے کہ غناء مکروہ لہو و لعب میں شمار ہوتا ہے۔ اور امام احمد بن حنبل کا موقف ہے کہ غناء نفاق کو دل میں جنم دیتا ہے اور مجھے پسند نہیں ہے۔‘‘
مذکورہ بالا اقوال فقہاء پر غور و خوض کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ’’غناء‘‘ سے متعلق بحث، عقیدہ کے اصول و مبادی کے زمرے میں نہیں آتی اور نہ دین کے ضروری امور میں آتی ہے، بلکہ یہ ایک فروعی مسئلہ ہے اور اس سے متعلق دلائل میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نغمگی اور خوش الحانی ان دنیاوی لذتوں میں سے ایک لذت ہے، جسے انسانی فطرت پسند کرتی ہے اور حواس خمسہ میں سے حسِسامعہ یعنی کان اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ گویا یہ کانوں کی لذت ہے، جیسے کھانا زبان کی لذت ہے اور خوبصورت منظر آنکھوں کی لذت ہے اور اچھی خوشبو حس شامہ کی لذت ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کی لذتیں اسلام میں حرام ہیں یا حلال؟
اصول اباحت کے تحت اِسلام میں تمام اچھی اشیاء جن سے انسانی نفوس اور عقول لطف اندوز ہوتے ہیں، اَصلاً حلال ہیں۔ خود اﷲ تعالیٰ نے امت مسلمہ پر اپنا لطف و کرم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ.
(المائده، 5 : 4)
’’لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لیے کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں؟ آپ (ان سے) فرما دیں کہ تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔‘‘
لہٰذا غناء بھی سوائے کلام کے کچھ نہیں۔ پس کلام اچھا ہوگا تو غناء بھی اچھا ہوگا اور اگر کلام قبیح ہے تو غناء بھی قبیح ہوگا، اور ہر وہ کلام جو حرام کو شامل ہوگا وہ حرام ہوگا۔ اکثر فقہاء شوافع اور حنابلہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بغیر آلۂ موسیقی کے غناء مطلقاً مباح ہے۔ اس موقف کی تائید امام ابن حزم، امام غزالی، اور ابن سمعانی سمیت دیگر سلف صالحین اور ائمہ کرام نے کی ہے۔ پس جس نے موسیقی کے جواز کا قول دیا ہے، اُس نے یہ قول امام غزالی، امام ابن حزم ابن سمعانی اور دیگر سلف صالحین کے اقوال کی اتباع میں کیا ہے۔
مذاہب اربعہ کے غناء کے موقف پر اجمالی نظر
جب ہم مذاہب اربعہ کے مؤقف۔ جو انہوں نے مسئلہ غناء میں اختیار کیا ہے۔ پر اِجمالی نظر دوڑاتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ غناء آلہ موسیقی کے ساتھ اور بغیر آلہ موسیقی کے ساتھ ایسا مسئلہ ہے جس پر علماء اسلام کے مابین کچھ امور میںاتفاق ہے اور کچھ امور میں اختلاف۔ ایسے غناء میں اختلاف ہے جو بغیر آلہ موسیقی کے ہو اور بغیر کسی تقریب کے ہو۔ پس کچھ فقہاء نے اس کو مباح قرار دیا ہے، کچھ نے مکروہ اور کچھ نے مستحب۔ فقہاء کی آرا ء کی روشنی میں درج ذیل امور سامنے آتے ہیں :
- وہ غناء جو بغیر آلہ موسیقی کے ہو اور جس کا اہتمام جائز تقریبات جیسے عرس، عید اور شادی کی تقریبات میں ہو اس میں کوئی گناہ نہیں۔
- ’’حدی خوانی‘‘ مباح ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں۔
- غناء کو ہمیشگی کے ساتھ اختیار کرنے والا اور اس کو سننے والے شخص کی گواہی مردود ہے کیونکہ غناء پر دوام اختیار کرنا اور اس میں کثرت کرنا کسی شخص کواباحت کی حدود سے خارج کرکے کراہت کی حدود تک لے جا سکتا ہے اور ممکن ہے حرام کی حدود میں داخل کر دے۔
- ہر وہ غناء جو فحش یا فسق یا معصیت پر ابھارنے جیسے امور پر مشتمل ہے اس کے حرام ہونے پر علماء کرام کے مابین اتفاق رہا ہے۔
- ایسا فطری غناء جو آلات موسیقی اور معصیت کو ابھارنے سے خالی ہو اور ایسے اچھے کلام پر مشتمل ہو، جس میں محض وزن، نغمگی اور تاثیر جمع ہو جائے، اس کے مباح ہونے پر علماء کرام کے مابین اتفاق ہے۔
چونکہ غناء کا اہتمام عموماً خوشی و مسرت کے مواقع، جیسے ولیمہ، عرس اور عید کی تقریبات میں کیا جاتا ہے، اس میں ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ شرعی حددد کے اندر ہو اور اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔
خلاصۂ بحث
قرآنی ارشادات اور فرمودات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ شادی کے موقعوں پر ڈھول بجانا اور خوشی کے تہواروں کی مناسبت سے صحت مند شاعری اور خوبصورت کلام عمدہ آواز کے ساتھ پڑھنا نیز تفریحی کھیل کود اسلامی احکام کی خلاف ورزی نہیں، یہ عمل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سنت بھی رہا ہے۔ یہ خوشی اور مسرت و شادمانی کا فطری اور بے ساختہ اظہار ہے، جس سے لوگوں کو اپنے جذبات طرب و مسرت کے اظہار کا جائز موقع فراہم ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کی ثقافتی ضرورت بھی ہے، خاص طور پر ان کی جو دکھوں اور غموں سے پریشان حال ہوتے ہیں۔ ہر چیز جو قرآن و سنت سے مطابقت رکھتی ہے، قابل تحسین ہے اور اس پر کسی مزید جواز کی ضرورت نہیں کہ لوگوں کے جائز جذبات مسرت پر کوئی سند لائی جائے۔ تاہم بعض احتیاطی اور انسدادی تقاضوں کو بہر صورت پورا کرنا لازمی و لابدی ہے۔ شائستگی کی حدوں کو پھلانگنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ لغو، بے ہودہ اور فحش باتوں سے اجتناب برتا جائے اور مخلوط اجتماعات سے گریز کیا جائے کیونکہ اسلام اخلاق، میانہ روی اور توازن کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے ایسے مواقع پر اچھائی اور نیکی کے کاموں سے پہلو تہی ہرگز نہ کی جائے۔
Naat with Daff & Music in Islam
Music in Islam
Music in Islam
Islam is a natural Din (practical and complete code of life) which enjoins tolerance and moderation in everything that matters. The Holy Qur’an states explicitly:
Kuloo waishraboo wala tusrifoo innahu la yuhibbu almusrifeena.
“Eat and drink, but waste not by excess, for Allah loveth not the wasters.” (7:31)
Salat (prayer), fasting, zakat (obligatory charity) and hajj (pilgrimage to Makkah) are all ritual practices of worship but these too are characterized by moderation. There are occasions when offering prayer is forbidden by Shariah. The observing of fast is tempered by sahr and iftar (having pre-dawn and post-sunset meals before and after fasting). The Shariah has imposed strict restraint on constant fasting without taking recourse to sahr and iftar at a stretch. In order to safeguard one’s chastity the institution of marriage has been made compulsory so as to realize the natural urges of biological need. Spending in the cause of Allah is a laudable act but it is conditioned by limits so as to ensure a balanced approach that one may not squander away all and go himself a begging.
There are religions which preach monasticism. But Islam shows complete aversion to this practice and lays stress on familial relations with wife, children, brothers, sisters and parents. It attaches great significance to family values and interacting socially with people at large. It believes in good ethics and morality inwardly as well as outwardly in social, political, cultural, spiritual and other affairs in a beautiful manner. The Holy Prophet (saw) once said: “Nobody with an iota of pride and arrogant will enter paradise.”
These words were attributed to him.
“Verily Allah is beauty and likes beauty. Pride amounts to denial of truth and looking down upon the people.”
Quran has termed the braying of an ass as the harshest of all sounds. It is stated:
Inna ankara al-aswati lasawtu alhameeri.
“For the harshest of sounds without doubt is the braying of the ass.” (31:19)
As contrary to this the melodious voice of Dawud (as), David, has been described as highly praise-worthy:
Inna sakhkharna aljibala maAAahu yusabbihna bialAAashiyyi waal-ishraqi. Waalttayra mahshooratan kullun lahu awwabun. Washadadna mulkahu waataynahu alhikmata wafasla alkhitabi.
“It was We that made the hills declare, in unison with him, Our Praises, at eventide and at break of day, and the birds gathered (in assemblies): all with him did turn (to Allah). We strengthened his kingdom, and gave him wisdom and sound judgment in speech and decision.” (38:18-20)
It is said of David that when he recited in remembrance of Allah, the mountains joined him and he understood their rhyme and rhythm. As per Muhammad ibn Ishaq the musical voice of David made the hills and bird sing in unison with him when he recited praises in remembrance of Allah. It is also said that Allah bestowed upon him the voice that surpassed all other voices and when recited the psalm the wild beasts would come close to him so much that he could catch them by their neck. David’s melodious voice which was gifted to him by his Lord proves beyond doubt that making use of good voice for songs and praises of Allah Almighty is virtuous and rewarding, there being no harm in display of skill of music and melody on joyful occasions.
This is also borne out by the Ahadith. The traditions of the Holy Prophet (saw). Rabi’, the daughter of Mu’awwiz ibn ‘Afra, said that the Holy Prophet (saw) came to me on the day of my wedding and seated himself on my bed just like other kith and kin. So our Ansar sisters began to play on ‘Daf’ (musical instrument) and sing in praises of martyrs of Badr. When one of the girls began singing in praise of the Holy Prophet (saw) he stopped her and asked to carry on singing as before.
A’isha Siddiqa narrates that a woman was married to an Ansari man. The Prophet (saw) intervening inquired of the women gathered there whether any of them knew anything of any sport or music.
A’isha Siddiqa narrates that the Holy Prophet (saw) said:
Let this ‘Nikah’ ceremony be pronounced loudly on ‘Daf’ and be held within the premises of mosque.
Playing of ‘Daf’ (musical instrument) and singing make difference of halal (lawful) and haram (forbidden) with regard to the legality of Nikah by publicizing it openly. Muhammad bin Hatim narrates that the Holy Prophet (saw) said:
The ‘halal’ is the state of lawfulness of ‘Nikah’ by openly publicizing it with ‘Daf’ and singing songs (while haram means doing it secretly and stealthily).
There are people with little knowledge of Shariah who erroneously arrange ‘Nikah’ silently without producing sound of ‘Daf’ or songs and they consider it a virtuous act. This is wrong. Virtue lies in obeying the Sunnah of the Holy Prophet (saw) observing complete silence on the occasion of marriage and rejoicing not only negates the Sunnah but it also tantamount to violation of the Sunnah as the Holy Prophet (saw) has made it a distinction between the lawful wedding and adultery. The point underlying this provision is abundantly clear that the act of marriage should be publicized so as to let the people know that the man and woman with each other are husband and wife. This purpose is best served by singing songs and playing musical instruments as per practice in vogue. Moreover expressing joy and making merry on such occasions are natural display of pleasure.
A’isha says:
I had an Ansari girl with me. I arranged her marriage. The Holy Prophet (saw) came and asked: “O A’isha! Why is there no song? This Ansari tribe has liking for singing songs on this occasion.”
Ibn ‘Abbas narrates the tradition that A’isha made arrangement of marriage of one of the Ansari girls related to her. The Holy Prophet (saw) came on that occasion and said: “Have you prepared the bride?” She replied in the positive and he further asked, “whether any singing girl has also been sent along to celebrate the wedding.” A’isha replied in negative. At this the Holy Prophet (saw) remarks: “The Ansar people have special liking for songs. You had better send a singing girl to say that we have here come to you and may Allah grant you and us with long life. Practice of the Companions.”
Aamir bin Sa’d says:
On a wedding occasion I happened to be with Qarza bin Ka’b and Abu Mas’ud Ansari and saw a party of singing girls there engaged in songs. I addressed the Ansar Companions saying: “O Companions of the Prophet, and warriors of Badr! What is this going on before you?” They replied: “This is all right if you are interested stay and listen to and if not you can leave from here as permission has been give us to sing and make merry on wedding occasions.
Another Hadith is attributed to A’isha. She says:
Allah’s Apostle came to my house while two girls were singing beside me the songs of Bu’ath (a story about the war between the two tribes of the Ansar, i.e. Khazraj and Aus, before Islam.) The Prophet reclined on the bed and turned his face to the other side. Abu Bakr came and scolded me and said protestingly, “Instrument of Satan in the presence of Allah’s Apostle?” Allah’s Apostle turned his face towards him and said, “Leave them.” When Abu Bakr became inattentive, I waved the two girls to go away and they left. It was the day of ‘Id when negroes used to play with leather shields and spears. Either I requested Allah’s Messenger or he himself asked me whether I would like to see the display. I replied in the affirmative. Then he let me stand behind him and my cheek was touching his cheek and he was saying, “Carry on, O Bani Arfida (i.e. negroes)!” When I got tired, he asked me if that was enough. I replied in the affirmative and he told me to leave.
Conclusion
In the light of Quranic injunctions and the sayings of the Holy Prophet (saw), it is amply clear that singing good songs, reciting healthy poetry, playing musical instruments and beating drums on the occasions of marriage and rejoicings over happy festivals do not contravene the Islamic injunctions and this has been the Sunnah of the Holy Prophet (saw) and the practice of the Companions all along. This is all but natural outburst of joy and gives genuine opportunities of making outlets of their joys and pleasure. This is also the cultural need of the people with sorrows and afflictions. Everything that according to Quran and Sunnah is commendable needs no further justification to validate the expression of legitimate feelings of joy on the part of the people.
However, some precautions and constraints must be observed positively. The excess of the limits of propriety should not be allowed and case be taken that vulgar and obscene practices are not indulged in and mixed gathering of man and woman be avoided on such occasion. Islam teaches morality and practice of moderation and balance tempered by good and virtuous acts on all occasions.
Article By : Muhammad Farooq Rana
Soul Refreshing Durood – by Minhaj ul Quran International
Nasheed written by Shyakh-ul-Islam,Dr.Tahir-ul-Qadri
Music which incites the love of Allah, His Prophet (صلى الله عليه وآله وسلم) is absolutely permissible
Good Music allowed in Islam : Authentic Hadith of Bukhari
Music which incites the love of Allah, His Prophet (صلى الله عليه وآله وسلم), Owliya, and that of country (or Jihad) etc does not come under the category of haram. 1. Almost every Hadith which talks against music also speaks against drinking (alcohol), doing zina with girls etc. So these Ahadith criticize that kind of music which can arouse sexual desires and can lead a person to drinking and zina etc. According to those scholars, the music used in Qawali etc doesnt arouse sexual desires, but incites the love of Allah and His Prophet (صلى الله عليه وآله وسلم), so it does not come under the prohibited category. 2. There are many events where music was played in the presence of the Prophet (صلى الله عليه وآله وسلم) and he didnt forbid it. As the Prophet (صلى الله عليه وآله وسلم) cannot allow a haram thing in his presence, so music is not haram (according to those scholars). 3. On some occasions, when some Sahabi tried to stop someone from playing music, the Prophet (صلى الله عليه وآله وسلم) asked them to continue with their music. This kind of acceptance was not possible for a haram act (according to those scholars). 4. At some marriage occasions the Prophet (صلى الله عليه وآله وسلم) ordered Sahaba to play some music and said that the difference between a marriage and zina is music (which serves as an announcement of that marriage).