Pages
Archives
- September 2012 (3)
- May 2012 (7)
- April 2012 (8)
- March 2012 (3)
- December 2011 (3)
- November 2011 (3)
- October 2011 (5)
- September 2011 (42)
- August 2011 (8)
- July 2011 (3)
- June 2011 (3)
- April 2011 (94)
- March 2011 (28)
- February 2011 (61)
- January 2011 (80)
- December 2010 (16)
- November 2010 (3)
- October 2010 (56)
- September 2010 (359)
Important Links
Hadith about Sending of Mujadid-Reviver at the begining of Every Century in Muslim Ummah
فَصْلٌ فِي بَعْثِ الْأَئِمَّةِ الْمُجَدِّدِيْنَ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ
اس اُمت میں اَئمہ مجددین کے بھیجے جانے کا بیان
Revival of true spirit of Islam by Minhaj-ul-Quran under Leadership of Shaykh-ul-Islam Dr.Tahir-ul-Qadri
841 / 41. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه فِيْمَا أَعْلَمُ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : إِنَّ اﷲَ عزوجل يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَي رَأْسِ کُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُّجَدِّدُ لَهَا دِيْنَهَا. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ.
الحديث رقم 41 : أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : الملاحم، باب : مايذکر في قرن المائة، 4 / 109، الرقم : 4291، والحاکم في المستدرک، 4 / 567، 568، الرقم : 8592، 8593، والطبراني في المعجم الأوسط، 6 / 223، الرقم : 6527، والديلمي في مسند الفردوس، 1 / 148، الرقم : 532، والمقرئ في السنن الوردة في الفتن، 3 / 742، الرقم : 364، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 51 / 388، 341، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 2 / 61.
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس (علم) میں سے جو انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھا روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر صدی کے آخر میں کسی ایسے شخص (یا اشخاص) کو پیدا فرمائے گا جو اس (امت) کے لئے اس کے دین کی تجدید کرے گا۔ ‘‘
842 / 42. عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ أَدْنَي الرِّيَاءِ شِرْکٌ وَأَحَبَّ الْعَبِيْدِ إِلَي اﷲِ تَبَارَکَ وَتَعَالَي الْأَتْقِيَاءُ الْأَخْفِيَاءُ الَّذِيْنَ إِذَا غَابُوْا لَمْ يُفْتَقَدُوْا وَإِذَا شَهِدُوْا لَمْ يُعْرَفُوْا أُوْلَئِکَ أَئِمَّةُ الْهُدَي وَمَصَابِيْحُ الْعِلْمِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ.
وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَاحَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
الحديث الرقم 42 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 3 / 303، الرقم : 5182، والطبراني في المعجم الأوسط، 5 / 163، الرقم : 4950، وفي المعجم الکبير، 20 / 36، الرقم : 53، والقضاعي في مسند الشهاب، 2 / 252، الرقم : 1298، والبيهقي في کتاب الزهد، 2 / 112.
’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : معمولی سا دکھاوا بھی شرک ہے اور بندوں میں سے محبوب ترین بندے اﷲ تعالیٰ کے نزدیک متقی اور خشیت الٰہی رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو موجود نہ ہوں تو تلاش نہ کیے جائیں اور موجود ہوں تو پہچانے نہ جائیں، وہی لوگ ہدایت کے اِمام اور علم کے چراغ ہیں۔ ‘‘
843 / 43. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَنْ تَمَسَّکَ بِسُنَّتِي عِنْدَ فَسَادِ أُمَّتِي فَلَهُ أَجْرُ مِائَةِ شَهِيْدٍ.
رَوَاهُ أَبُوْنُعَيْمٍ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ.
الحديث الرقم 43 : أخرجه أبونعيم في حلية الأولياء، 8 / 200، والبيهقي في کتاب الزهد الکبير، 2 : 118، الرقم : 207، والديلمي في مسند الفردوس، 4 / 198، الرقم : 6608، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 : 41 / الرقم : 65، والمزي في تهذيب الکمال، 24 / 364، والذهبي في ميزان الاعتدال، 2 / 270.
’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے اس وقت میری سنت کو مضبوطی سے تھاما جب میری امت فساد میں مبتلا ہو چکی ہو گی تو اس کے لئے سو شہیدوں کے برابر ثواب ہے۔ ‘‘
844 / 44. عَنِ الْحَسَنِ بِنْ عَلِيٍّ رضي اﷲُ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِي بِهِ الإِسْلَامَ فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِيْنَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ.
رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَالطَّبَرَانِيُّ.
الحديث الرقم 44 : أخرجه الدارمي في السنن، باب : في فضل العلم والعالم، 1 / 112، الرقم : 354، والطبراني في المعجم الأوسط، 9 / 174، الرقم : 9454، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 51 / 61، والهيثمي في مجمع الزوائد، 1 / 123، وابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله، 1 / 46، والزبيدي في اتحاف سادة المتقين، 1 / 100، والمنذري في الترغيب والترهيب، 1 / 53، الرقم : 110.
’’حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : دورانِ حصولِ علم اگر کسی شخص کو موت آ جائے اور وہ اس لئے علم حاصل کر رہا ہو کہ اس کے ذریعہ سے اسلام کو زندہ کرے گا تو اس کے اور انبیاءِ کرام کے درمیان جنت میں صرف ایک درجے کا فرق ہو گا۔ ‘‘
845 / 45. عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه، عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ قَالَ : لَا نَبِيَّ بَعْدِي. قَالُوْا : فَمَا يَکُوْنُ يَا رَسُوْلَ اﷲِ، قَالَ : يَکُوْنُ خُلَفَاءٌ بَعْضُهُمْ عَلَي أَثْرِ بَعْضٍ فَمَنِ اسْتَقَامَ مِنْهُمْ فَفُوْا لَهُمْ بَيْعَتَهُمْ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَقِمْ فَأَدُّوْا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا ﷲَ الَّذِي لَکُمْ. رَوَاهُ ابْنُ رَاهَوَيْهِ.
الحديث الرقم 45 : أخرجه ابن راهويه في المسند، 1 / 257، الرقم : 223.
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (جان لو!) میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : تو یا رسول اللہ کون ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : (میرے) خلفاء ہوں گے اور پھر ان کے خلفاء ہوں گے۔ سو جسے تم سیدھے راستہ پر پاؤ اس کے ساتھ بیعت (عہد وفا) نبھاؤ، اور جو سیدھی راہ پر نہ رہیں انہیں ان کا حق دے دو اور اپنا حق اللہ تعالیٰ سے مانگو۔ ‘‘
846 / 46. عَنْ کَثِيْرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهِ رضي الله عنهم قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : إِنَّ الدِّيْنَ (أَوْ قَالَ : إِنَّ الإِسْلَامَ) بَدَأَ غَرِيْبًا وَسَيَعُوْدُ غَرِيْبًا کَمَا بَدَأَ فَطُوْبَي لِلْغُرَبَاءِ قِيْلَ : يَا رَسُوْلَ اﷲِ! مَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ : الَّذِيْنَ يُحْيُوْنَ سُنَّتِي وَيُعَلِّمُوْنَهَا عِبَادَ اﷲِ. رَوَاهُ الْقُضَاعِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ.
الحديث الرقم 46 : أخرجه القضاعي في مسند الشهاب، 2 / 138، الرقم : 1052. 1053، والبيهقي في کتاب الزهد الکبير، 2 / 117، الرقم : 205، والسيوطي في مفتاح الجنة، 1 / 67.
’’حضرت کثیر بن عبد اللہ مزنی رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیشک دین (یا فرمایا : اسلام) کی ابتداء غریبوں سے ہوئی اور غریبوں میں ہی لوٹے گا جس طرح کہ اس کا آغاز ہوا تھا، سو غریبوں کو مبارک ہو۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! غرباء کون ہیں؟ فرمایا : وہ لوگ جو میری سنتوں کو زندہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ان کی تعلیم دیتے ہیں۔ ‘‘
847 / 47. عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَبِ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم قَالَ : مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ يُحْيِي بِهِ الإِسْلَامَ لَمْ يَکُنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَنْبِيَاءِ إِلَّا دَرَجَةٌ.
رَوَاهُ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ.
الحديث الرقم 47 : أخرجه ابن عبدالبر في جامع بيان العلم وفضله، 1 / 46.
’’حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس نے علم حاصل کیا تاکہ اس سے اسلام کو زندہ کر سکے تو اس کے اور انبیاء کرام کے درمیان سوائے ایک درجہ کے کوئی فرق نہیں ہو گا۔ ‘‘
848 / 48. عَنِ الْحَسَنِ ابْنِ عَلِيٍّ رضي اﷲ عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : رَحْمَةُ اﷲِ عَلَي خُلَفَائِي ثلَاَثَ مَرَّاتٍ، قَالُوْا : وَمَنْ خُلَفَاؤُکَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ؟ قَالَ : الَّذِيْنَ يُحْيُوْنَ سُنَّتِي وَيُعَلِّمُوْنَهَا النَّاسَ.
رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ وَابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ وَالْهِنْدِيُّ.
الحديث الرقم 48 : أخرجه ابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، 51 / 61، وابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله، 1 / 46، والهندي في کنز العمال، 10 / 229، الرقم : 29209.
’’حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ یہ فرمایا : میرے خلفاء پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ کے خلفاء کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ (لوگ) جو میری سنتوں کو زندہ کرتے ہیں اور (دوسرے) لوگوں کو بھی ان کی تعلیم دیتے ہیں (میرے خلفاء ہیں)۔ ‘‘
849 / 49. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْفَرْيَابِيِّ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ رضي الله عنه : إِنَّ اﷲَ يُقَيِضُ لِلنَّاسِ فِيکُلِّ رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُعَلِّمُهُمُ السُّنَنَ وَيَنْفِي عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم الْکِذْبَ. رَوَاهُ الْمِزِّيُّ وَالْخَطِيْبُ وَالْعَسْقَلَانِيُّ.
الحديث الرقم 49 : أخرجه المزي في تهذيب الکمال، 24 / 365، والعسقلاني في تهذيب التهذيب، 9 / 25، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، 2 / 62، والعظيم آبادي في عون المعبود، 11 / 261.
’’حضرت ابو سعید فریابی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ہر صدی کے آخر پر لوگوں کے لئے ایک ایسی شخصیت کو بھیجتا ہے جو لوگوں کو سنت کی تعلیم دیتی ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب جھوٹ کی نفی کرتی ہے۔ ‘‘
Taken from “Al-Minhaj as-Sawiyy min al-Hadith an-Nabawiyy” By Shaykh-ul-Islam Dr.Tahir-ul-Qadri
Makkan Mawlid:Saudia Arab celebrated Prophet Brithday throughout there History except Current Regime
Shaykh ul Islam Dr. Muhammad Tahir ul Qadri rejects the idea that Milad un nabi (saw) was NOT celebrated in the Arab world. He provides many references from the history books which clearly describes the proceedings of Milad celebrations in Mecca and Madina. He also quoted many authentic scholars in Islamic History who have mentioned the details of Mawlid celebrations in arab world. He suggested the Muslim scholars to read the history before making such statements which clearly rejects Mawlid celebrations in Islam.
مکہ مکرمہ میں محفلِ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اِنعقاد
Pearls of Wisodom from Kitab az-Ziyara (Book on Visiting).
4۔ زیارتِ قبور سے متعلق چند قباحتیں
گزشتہ صفحات میں ہم نے قرآن و حدیث کی روشنی میں زیارتِ قبور کی شرعی حیثیت کو بیان کیا، جمہور علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ زیارتِ قبور ایک مستحسن اور مندوب عمل ہے۔ ائمہ متقدمین و متآخرین کا زیارتِ قبور کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں۔
مشروعیت کے ان دلائل کے ساتھ ساتھ مزاراتِ اولیاء اور زیاراتِ قبور سے متعلق چند قباحتوں کی نشاندہی بھی ضروری ہے۔ ان قباحتوں اور غیر شرعی امور کی کسی قدر تفصیل ہماری کتاب ’’عقائد میں احتیاط کے تقاضے‘‘ میں آچکی ہے۔ تاہم یہاں اس کا خلاصہ موضوع زیر بحث کی وضاحت ضروری ہے۔
٭ قبور کی زیارت کا پہلا مقصد تو عبرت، خشیت، تذکیر آخرت اور استحضارِ موت ہے۔ اسکے ساتھ صاحبِ مزار اگر نیک متقی اور فیض رساں شخصیت ہے تو زائر کو فیوض و برکاتِ باطنی بھی ملتی ہیں جیسا کہ اوپر بزرگانِ دین کے معمولات کا تذکرہ ہو چکا ہے۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ فی زمانہ زائرین کی اکثریت مقصد اولیٰ یعنی خشیت کو پسِ پشت ڈال چکی ہے۔ قبر کو دیکھ کر فکرِ آخرت پیدا نہ ہو، موت کی تیاری میں مدد نہ ملے اور سیرت و کردار پر مثبت اثرات مرتب نہ ہوں تو نہ فیض حاصل ہوا اور نہ خشیت کا مقصد پورا۔ روحانی فیض ایک باطنی کیفیت ہے جس کے واضح اثرات شخصیت پر نظر آتے ہیں۔ یہ اثرات نظر نہ آئیں دل میں تقویٰ اور اپنی بے بضاعتی کا احساس جنم نہ لے تو زیارتِ قبور محض ایک مشقت بھری رسم رہ جاتی ہے۔
٭ اسی طرح زائرین اگر فرائض کو ترک کرکے مستحبات پر زور دیں اور نوافل کو فرائض پر فوقیت دیں تو اللہ تعالیٰ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صاحبِ مزار کوئی بھی خوش نہیں ہوگا۔ ایسے زائرین حصول فیض کی بجائے معصیت کیشی کے مجرم ہوں گے۔ مثلا مزار پر فرض نماز کی جماعت ہو رہی ہو اور لوگ فاتحہ خوانی میں مصروف ہوں۔ نماز کا وقت نکل رہا ہو اور زائرین مزار پر پھول چڑھا رہے ہوں۔
٭ علاوہ ازیں بعض مزارات پر عام دنوں میں بالعموم اور اعراس کے مواقع پر بالخصوص ناچ گانے بھنگڑے دھمال اور دیگر خرافات کا باقاعدہ انتظام ہوتا ہے۔ اس قسم کی تقاریب اگرچہ علاقائی ثقافت کی علامات بھی بن چکی ہیں لیکن بزرگانِ دین کے ساتھ ان خرافات کو منسوب کرنا بذاتِ خود اپنی ثقافت کے برعکس ہے۔ ان اعمال غیر شرعیہ کا ارتکاب قطعاً ناجائز اور نامناسب ہے۔ تعلیمات تصوف و طریقت کی کھلی مخالفت کا موجب ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بھی۔ اس لئے جہاں تک ہاتھ پہنچے ایسے امور سے اجتناب کرنا چاہیے اور اگر حکومت اور انتظامیہ سے ہو سکے تو بزور طاقت و قانون ان حرکات کی ممانعت ہونی چاہیے مزاراتِ مقدسہ پر بعض دیگر قباحتیں بھی ایک عرصے سے جڑھ پکڑ چکی ہیں جن سے اگر شرک نہیں تو اشتباہ شرک ضرور ہوتا ہے دیکھنے والوں کو بدگمانی کا موقع ملتا ہے اس سے کفر اور شرک کے دروازے کھلتے ہیں اور انسان ثواب کماتے کماتے عذاب کا مستحق ٹھہر جاتا ہے۔ ان غیر شرعی امور میں نوراتیں ماننا، منتیں مان کر کپڑوں وغیرہ میں گرہیں لگانا، مزار کا طواف کرنا اور وہاں سجدہ کا ارتکاب کرنا بطور خاص قابلِ ذکر ہیں۔
٭ ان سب سے بڑھ کر بعض مزارات اور قبر ستانوں میں مجاور براجمان ہوتے ہیں وہ چونکہ خود غلیظ ہوتے ہیں اس لئے اہلِ ایمان کی قبروں کی حرمت کے تقاضوں سے بھی بے بہرہ ہوتے ہیں۔ ان شیطان صفت لوگوں میں کئی پیشہ ور مجرم بھی ہوتے ہیں جو روپ بدل کر ایسے مقامات کو ناجائز کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ مزارات کے ماحول میں گندگی پھیلاتے ہیں خود نشہ کرتے ہیں چرس افیون اور سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ کئی تو زائرین کو بھی دعوتِ گناہ دیتے ہیں اور بعض بھولے مانس اسے ’’خصوصی فیض‘‘ سمجھ کر انکی دعوت کو قبول بھی کر لیتے ہیں۔ یہاں سے برائی کی رغبت اور تبلیغ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہی لوگ عام طور پر بردہ فروشی، عصمت فروشی اور اغوا برائے تاوان جیسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب بھی کرتے ہیں۔ اس لئے حتی المقدور ایسے عناصر سے بھی مزارات کے ماحول کو پاک صاف رکھنا اہلِ ایمان کا اولین فریضہ ہے۔
لاہور میں حضور داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ ، کراچی میں عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ ، سیون شریف، بہاؤ الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ ، پاکپتن شریف، گولڑہ شریف، پیربابا اور دیگر بہت سے چھوٹے بڑے مزارات کے احاطے جہاں عوام الناس کی آمدو رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے وہاں آئے روز ایسے جرائم بھی ہوتے ہیں اور اخبارات کے خصوصی فیچرز کی زینت بنتے ہیں۔ ان خبروں کو بڑھنے سننے والے یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ یہ مراکز شاہد انہی برائیوں کا مرکز ہیں حالانکہ اس طرح کے چند بدقماش اور بد اندیش لوگ اپنی رذالتِ طبع کا مظاہرہ کرتے ہیں ورنہ بہت سے زائرین حسنِ مقصد لے کر آتے ہیں اور بامراد واپس جاتے ہیں۔
٭ اسی طرح ان مزارات پر بعض بے سہارا عورتیں حالات و زمانہ کی تنگی کا شکار ہو کر پناہ لینے آتی ہیں مگر یہاں پر موجود کچھ چالاک اور بدکردار خواتین انہیں اپنے دام فریب میں پھنسا لیتی ہیں جس کے بعد وہ مجبور و بے بس عورتیں خود برائی اور معصیت کا نشان بن جاتی ہیں۔ ایسے حساس معاملات پر حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو توجہ دینی چاہیے۔ کڑی نگرانی ہو اور ایسے نوسر بازوں کو احاطۂ دربار میں آنے سے روک دیا جائے تو اس طرح کے جرائم کبھی بھی پیدا نہیں ہوسکتے۔
٭ اختلاطِ مرد و زن بھی ایک بڑی قباحت ہے اوریہ عام طور پر وہاں دیکھنے میں آتا ہے جہاں ماحول حکومتی اوقاف کے زیرِ اہتمام ہوتا ہے اسی اختلاط میں مضمر برائیوں کی وجہ سے بعض فقہاء نے عورتوں کا مزارات پر جانا مطلقاً ناجائز قرار دے دیا ہے۔ الغرض ایسی تمام بے احتیاطیاں جو بعد ازاں برائیوں کا پیش خیمہ بن جائیں ان کا سختی سے قلع قمع ہونا چاہیے تاکہ لوگ جواز سے ناجائز فائدہ اُٹھا کر گناہ کے مرتکب نہ ہوتے پھریں۔ خواتین کی زیارتِ مزار سے متعلق چند تفصیلات ذیل میں الگ آ رہی ہے۔
Kitab az-Ziyara (Book on Visiting)
http://www.minhajbooks.com/english/control/btext/cid/4/bid/300/btid/491
Minhaj-ul-Quran Revived the concept of merging Secular & Religious Education
Let’s Revive the concept of Combining Secular & Religious Education
A Solution to fight against Sectarianism by Shaykh-ul-Islam Dr.Tahir-ul-Qadri
f

Islam on Prevention of Heart Diseases

Giving identification of the hypocrites, the Qur’an states:
The constant praying habit resultantly lessens the hazards of heart diseases through the following methods:
The Special Kindness of Allah to ‘Ashab-e-Kahf’
Extract from “Spiritualism and Magnetism”
English book of Shaykh-ul-Islam Prof. Dr. Muhammad Tahir-ul-Qadri
Thorough and effective comprehension of the Holy Quran attaches special significance to semantic inter-relationship of the Qur’anic verses. While studying the chapter of ‘Al-Kahf’ we should investigate the semantic relations of the verse under study.
With the episode of Ashab-e-Kahf, (the companions of Kahf) this study will bring to fore the message contained in the verse and the episode. They were Auliya Allah from the former Ummah who, under security threat of the cruel ruler and the adversaries of Islam, migrated from their abodes for safety and hid themselves in a cave for shelter. They prayed to Allah:
O’ our Lord, bestow on us your special kindness and provide us with (means of) guidance in our affair.[1]
Allah Almighty accepted their imploration and gave them the happy tiding that He would provide them with His kindness. What was that special kindness conferred on the companions of Kahf needs to be comprehended. An in-depth study of the context of the Holy Qur’an will reveal that the Companions of Kahf reposed in the cave for 309 years. Independent of their physical needs and provisions of life, in a grave like circumstances, they were kept from decomposition and degeneration, which should have inflicted their physical bodies due to atmospheric changes over long 309 years. It was a special shower of Allah’s kindness that the sun changed its course to keep their bodies intact, safe and secure from climatic effects and temperature variations. The 309 Lunar years equal 300 Solar years. They remained there fresh and retrievable for three centuries. For the companions of Kahf, however, such a long span of time took flight in hours.
The Holy Qur’an describes:
And you behold, when the sun rises it moves away from their cave on their right and when it sets it shifts away from them on their left and they are lying in the spacious hollow (in the cave).[2]
This is a special sign of Allah that for His Friends, he changed the rules of rising and setting of the Sun, which change was incorporated in the overall system of the universe for long 309 years. He amended a fixed and predetermined heavenly system for 300 rotations of the Earth round the Sun with the sole purpose to keep His Friends safe from any possible damage. He changed the course of nature for His Friends This was the ‘decision’ of the All-Powerful, All-Knowing.
After describing the whole episode, Allah Almighty exhorted, “Those who seek My nearness, must persist with the companionship of my Friends.”
The Holy Quran further specifies:
He whom Allah guides is on the right path but whom He makes stray you will find them friendless with no help or guide.[3]
Allah the most benevolent, the most merciful, lulled the Companions of Kahf to an undisturbed and profound sleep and exalted them to a heavenly status; then he thoroughly engaged and involved them in an ecstatic state of visioning ‘the ultimate reality’. The time got wings to fly and centuries passed like moments. The Doomsday lasting for 50,000 yours would not be more than an Asar Prayer time (late afternoon prayer time) for His Friends. For Allah’s adversaries, however, this would stretch as long as 50 millennia of indescribable agony and pain. The inference is that the time reduces in the heavenly experience of visioning reality; the measure of time changes: centuries pass as moments.
On that day, Allah will direct his angels to arrange for a glimpse of Allah’s sight for those who pursued and sought Him all along their worldly and earthly term of life. Instead of luxuriating in their comfortable and overstuffed beds and couches, they kneeled and bowed their heads down in front of Allah at night ‘for half of night or less or a little more’ to seek His favour, consent and delight. On the day of judgement all veils will be removed and ‘His Friends’ will be positioned on enlightened mounds. For them the day will not be longer than their ‘Asar Prayer’ i.e. a few hours, while for others it will span 50,000 years.
[1]. Qur’an (al-Kahf) 18:10.
[2]. Qur’an (al-Kahf) 18:17.
[3]. Qur’an (al-Kahf) 18:17.