Miracle :Spring of Tabuk 1500 years passed Living Miracle of Prophet Muhammad PBUH
The Miracle of increasing the water at the Expedition of Tabuk:
Mu’adh Ibn Jabal (may Allah be pleased with him) said: “We set out with Allah’s Messenger (peace be upon him) in the year of the expedition of Tabuk…. He then said: ‘Allah willing, tomorrow you will reach the spring of Tabuk but you will not arrive at it till it is forenoon…. The spring was a thin stream of water like a shoelace [i.e. very little water]. The people then scooped water from the spring with their hands little by little till they collected a little amount of water in a container. Allah’s Messenger (peace be upon him) washed his hands and his face in it, and then returned the water of the container to the spring, whereupon the spring flowed profusely and the people used what they needed of the water. He then said: ‘O Mu’adh, if you should live long enough, you will soon see this area covered with gardens.’”
Muslim, Book/ al-Fada’il, Section/ concerning the Miracles of the Prophet (peace be upon him); Ibn Khuzaimah in his Sahih, 2/82; Ibn Hibban in his Sahih, 4/469-470; ‘Abdul-Razzaq in al-Musannaf, 2/545-546; Ahmad in al-Musnad, 5/237; al-Tabarani in al-Mu’jam al-Kabir, 20/57; al-Firyabi in Dala’il al-Nubuwah, p. 59.
سوال پوچھنے والے کا نام: عطا الرحمن مقام: سعودی عرب
سوال نمبر1041:
برائے مہربانی ہماری رہنمائی کیجئے کہ انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب اپنے ایک کارکن کو دفنانے کے بعد ان کی قبر پر کھڑے ہو کر انہیں کلمہ اور قبر میں ہونے والے سوالات کی تلقین کر رہے ہیں۔ کیا ایسا شریعت کی روح سے جائز ہے؟
جواب:
مردے کو کلمہ پڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان حالت مرگ میں ہو یا تدفین کے بعد اس کو لا اله الا الله محمد رسول الله کی تلقین یا یادہانی کرائی جائے۔
تلقین کے بارے میں احادیث مبارکہ میں واضح حکم ملتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے، صحیح مسلم شریف میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم لقنوا موتاکم لا اله الا الله.
(صحيح مسلم شريف، ج : 1، ص : 300)
امام ابن ماجہ ابو سعید الخذری سے روایت کرتے ہیں :
قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم لقنوا موتاکم لا اله الا الله.
(ابن ماجه، ص : 104)
موت کے وقت یا تدفین کے بعد مردے کو کلمہ طیبہ یاد دلانا یا تلقین کرنا سنت ہے۔
امام شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
قد روی عن النبی صلی الله عليه وآله وسلم انه امر بالتلقين بعد الدفن فيقول : يا فلان بن فلان اذکر دينک الذی کنت عليه من شهادة ان لا اله الله وان محمد رسول الله و ان الجنة حق والنار حق و ان البعث حق و ان الساعة اتية لا ريب فيها و ان الله يبعث من فی القبور و انک رضيت بالله ربا وبالاسلام دينا و بحمد صلی الله عليه وآله وسلم نبيا و بالقرآن اماما و بالکعبة قبلة و بالمومنين اخوانا.
(امام عابدين شامی، ج : 2، ص : 191)
آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے حکم دیا کہ تدفین کے بعد مردے کو تلقین کرو۔ یہ کہے اے فلاں کے بیٹے یاد کرو وہ دین جس پر تم دنیا میں تھے یعنی کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ جنت اور دوزخ کے ہونے اور قیامت کے قائم ہونے پر جس میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ اللہ پاک اہل قبور کو اٹھائے گا اور تم اللہ کو رب مانتے تھے، اسلام کو دین مانتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی اور رسول مانتے تھے، کعبہ کو قبلہ اور تمام مسلمانوں کو بھائی مانتے تھے۔
پھر فرماتے ہیں :
لا نهی عن التلقين بعد الدفن لانه لا ضرر فيه بل فيه نفع فان الميت يستانس بالذکر علی ما ورد فيه الاثار.
تدفین کے بعد تلقین سے منع نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ اس میں اس کو نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہے اس لیے کہ مردہ ذکر سے خوش ہوتا ہے جیسا کہ آثار صحابہ سے واضح ہے۔
Anas b. Malik reported that Allah’s Messenger (may peace be upon him) said: When the dead body is placed in the grave, he listens to the sound of the shoes (as his friends and relatives return after burying him).
[Sahih Muslim Book 040, Hadith Number 6863]
Its a Sunnah to make/ remind dead person recite Kalima ,Shaykh-ul-Islam dr.tahir-ul-qadri has done this in accordance with prophetic traditions.
سوال پوچھنے والے کا نام: عطا الرحمن مقام: سعودی عرب
سوال نمبر1041:
برائے مہربانی ہماری رہنمائی کیجئے کہ انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو میں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب اپنے ایک کارکن کو دفنانے کے بعد ان کی قبر پر کھڑے ہو کر انہیں کلمہ اور قبر میں ہونے والے سوالات کی تلقین کر رہے ہیں۔ کیا ایسا شریعت کی روح سے جائز ہے؟
جواب:
مردے کو کلمہ پڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ جو مسلمان حالت مرگ میں ہو یا تدفین کے بعد اس کو لا اله الا الله محمد رسول الله کی تلقین یا یادہانی کرائی جائے۔
تلقین کے بارے میں احادیث مبارکہ میں واضح حکم ملتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے، صحیح مسلم شریف میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم لقنوا موتاکم لا اله الا الله.
(صحيح مسلم شريف، ج : 1، ص : 300)
امام ابن ماجہ ابو سعید الخذری سے روایت کرتے ہیں :
قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم لقنوا موتاکم لا اله الا الله.
(ابن ماجه، ص : 104)
موت کے وقت یا تدفین کے بعد مردے کو کلمہ طیبہ یاد دلانا یا تلقین کرنا سنت ہے۔
امام شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
قد روی عن النبی صلی الله عليه وآله وسلم انه امر بالتلقين بعد الدفن فيقول : يا فلان بن فلان اذکر دينک الذی کنت عليه من شهادة ان لا اله الله وان محمد رسول الله و ان الجنة حق والنار حق و ان البعث حق و ان الساعة اتية لا ريب فيها و ان الله يبعث من فی القبور و انک رضيت بالله ربا وبالاسلام دينا و بحمد صلی الله عليه وآله وسلم نبيا و بالقرآن اماما و بالکعبة قبلة و بالمومنين اخوانا.
(امام عابدين شامی، ج : 2، ص : 191)
آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے حکم دیا کہ تدفین کے بعد مردے کو تلقین کرو۔ یہ کہے اے فلاں کے بیٹے یاد کرو وہ دین جس پر تم دنیا میں تھے یعنی کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ جنت اور دوزخ کے ہونے اور قیامت کے قائم ہونے پر جس میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ اللہ پاک اہل قبور کو اٹھائے گا اور تم اللہ کو رب مانتے تھے، اسلام کو دین مانتے تھے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی اور رسول مانتے تھے، کعبہ کو قبلہ اور تمام مسلمانوں کو بھائی مانتے تھے۔
پھر فرماتے ہیں :
لا نهی عن التلقين بعد الدفن لانه لا ضرر فيه بل فيه نفع فان الميت يستانس بالذکر علی ما ورد فيه الاثار.
تدفین کے بعد تلقین سے منع نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ اس میں اس کو نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہے اس لیے کہ مردہ ذکر سے خوش ہوتا ہے جیسا کہ آثار صحابہ سے واضح ہے۔